بھارت کی لیجنڈری پلے بیک گلوکارہ آشا بھوسلے 92 برس کی عمر میں انتقال کر گئیں، جس کے بعد برصغیر سمیت دنیا بھر میں موسیقی سے محبت کرنے والے لاکھوں مداح غم میں ڈوب گئے۔
بھارتی میڈیا اور اسپتال ذرائع کے مطابق انہیں گزشتہ روز طبیعت ناساز ہونے پر ممبئی کے بریچ کینڈی اسپتال منتقل کیا گیا تھا، جہاں وہ دورانِ علاج انتقال کر گئیں۔
رپورٹس کے مطابق آشا بھوسلے کو شدید تھکن، سینے میں انفیکشن اور سانس کی تکلیف کے باعث اسپتال میں داخل کرایا گیا تھا۔ ابتدائی طور پر خاندان نے امید ظاہر کی تھی کہ ان کی طبیعت سنبھل جائے گی،
تاہم بعد ازاں متعدد اعضا کے کام چھوڑ جانے کے باعث ان کا انتقال ہوگیا۔ اسپتال انتظامیہ نے بھی ان کی وفات کی تصدیق کی ہے۔
آشا بھوسلے کے بیٹے آنند بھوسلے نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ ان کی آخری رسومات کل ممبئی میں ادا کی جائیں گی، جہاں اہلِ خانہ، قریبی عزیز، شوبز شخصیات اور مداح بڑی تعداد میں شرکت کریں گے۔ ان کے انتقال کی خبر سامنے آتے ہی بھارتی فلم انڈسٹری، موسیقی کے حلقوں اور سیاسی شخصیات کی جانب سے تعزیتی پیغامات کا سلسلہ شروع ہوگیا۔
آشا بھوسلے کی پوتی زنائی بھوسلے نے ایک روز قبل سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر اپنی دادی کی علالت سے متعلق پوسٹ شیئر کی تھی۔ انہوں نے بتایا تھا کہ آشا بھوسلے شدید تھکن اور سینے کے انفیکشن کے باعث اسپتال میں زیرِ علاج ہیں، اور مداحوں سے خاندان کی پرائیویسی کا احترام کرنے کی اپیل کی تھی۔ اس وقت خاندان کو امید تھی کہ وہ جلد صحت یاب ہو جائیں گی، لیکن قسمت کو کچھ اور منظور تھا۔
آشا بھوسلے کو بھارتی فلمی موسیقی کی تاریخ کی سب سے بااثر آوازوں میں شمار کیا جاتا ہے۔ انہوں نے آٹھ دہائیوں پر محیط شاندار کیریئر میں ہزاروں گانے ریکارڈ کروائے اور کلاسیکل، غزل، پاپ، قوالی اور فلمی موسیقی سمیت ہر صنف میں اپنی آواز کا جادو جگایا۔ ان کے گائے ہوئے درجنوں گانے آج بھی مداحوں کے دلوں میں زندہ ہیں۔
انہیں اپنی غیر معمولی فنی خدمات کے اعتراف میں سال 2000 میں Dadasaheb Phalke Award اور 2008 میں Padma Vibhushan سے نوازا گیا تھا۔ آشا بھوسلے کی وفات نہ صرف بھارتی موسیقی بلکہ پورے جنوبی ایشیا کے ثقافتی ورثے کے لیے ایک ناقابلِ تلافی نقصان قرار دی جا رہی ہے


