ایران کی وہ بحری قوت اب بھی بڑی حد تک محفوظ ہے جو آبنائے ہرمز پر عملی کنٹرول کے لیے استعمال ہوتی ہے،امریکا کو خدشہ

Date:

امریکی اخبار نے اپنی تازہ رپورٹ میں دعویٰ کیا ہے کہ امریکا کی فوجی کارروائیوں نے ایران کی روایتی بحریہ کو شدید نقصان پہنچایا ہے، تاہم ایران کی وہ بحری قوت اب بھی بڑی حد تک محفوظ ہے جو آبنائے ہرمز پر عملی کنٹرول کے لیے استعمال ہوتی ہے۔

رپورٹ کے مطابق ایران کی روایتی بحریہ بڑے جنگی جہازوں، فریگیٹس اور طویل فاصلے تک کارروائی کرنے والے بحری اثاثوں پر مشتمل تھی، جو زیادہ تر علامتی طاقت کے اظہار اور دور دراز تعیناتیوں کے لیے استعمال ہوتے تھے۔

امریکی اور اتحادی حملوں میں انہی بڑے بحری جہازوں کو سب سے زیادہ نشانہ بنایا گیا، جس کے نتیجے میں ایران کے کئی جدید جنگی جہاز تباہ یا ناکارہ ہو گئے۔

دفاعی تجزیاتی ادارے جینس کے مطابق ایران اپنے سات میں سے چھ فریگیٹس، دونوں کورویٹس اور آبدوزوں کے ایک بڑے حصے سے محروم ہو چکا ہے۔

امریکی سینٹرل کمانڈ نے 6 اپریل تک دعویٰ کیا کہ ایران کے 155 سے زائد بحری جہاز تباہ یا شدید نقصان کا شکار ہو چکے ہیں۔

ان حملوں میں ایران کے کئی اہم بحری اثاثے، بارودی سرنگیں بچھانے والے جہاز، فریگیٹس اور جدید جنگی پلیٹ فارم بھی شامل تھے۔

امریکی میڈیا رپورٹس کے مطابق ایران کے جدید جنگی جہاز “شہید صیاد شیرازی” اور ڈرون کیریئر “شہید باقری” بھی حملوں کی زد میں آئے۔

تاہم رپورٹ میں زور دیا گیا ہے کہ اصل خطرہ اب بھی ایران کی پاسدارانِ انقلاب کی بحریہ سے ہے، جس کے پاس تیز رفتار کشتیوں، چھوٹے جنگی جہازوں، ڈرونز اور بارودی سرنگیں بچھانے کی صلاحیت موجود ہے۔

پاسداران انقلاب  کی یہ فورس خاص طور پر خلیج فارس اور آبنائے ہرمز جیسے تنگ سمندری راستوں میں مؤثر سمجھی جاتی ہے۔

آبنائے ہرمز دنیا کی توانائی سپلائی کے لیے انتہائی اہم گزرگاہ ہے، جہاں سے عالمی تیل کی بڑی مقدار گزرتی ہے۔

ماہرین کے مطابق پاسدارانِ انقلاب کی 60 فیصد سے زائد تیز رفتار کشتیاں اب بھی محفوظ ہیں، کیونکہ یہ نہ صرف تعداد میں زیادہ ہیں بلکہ انہیں ساحلی علاقوں کے خفیہ اور زیرِ زمین اڈوں میں بھی رکھا جاتا ہے، جس سے انہیں سیٹلائٹ نگرانی سے بچانا آسان ہو جاتا ہے۔

دفاعی ماہرین کا کہنا ہے کہ اگرچہ ایران کی روایتی بحری طاقت کو بڑا دھچکا لگا ہے، لیکن آبنائے ہرمز میں چھوٹی، تیز رفتار اور غیر روایتی جنگی حکمتِ عملی اب بھی عالمی بحری تجارت کے لیے خطرہ بنی ہوئی ہے۔

یہی وجہ ہے کہ خطے میں کشیدگی کم ہونے کے باوجود سمندری راستوں کی مکمل بحالی اب بھی ایک بڑا چیلنج سمجھی جا رہی ہے۔

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here

Share post:

Subscribe

spot_imgspot_img

Popular

More like this
Related

بھارت کی لیجنڈری پلے بیک گلوکارہ آشا بھوسلے 92 برس کی عمر میں انتقال کر گئیں

بھارت کی لیجنڈری پلے بیک گلوکارہ آشا بھوسلے 92...

جمعیت علمائے اسلام (ف) کے سربراہ فضل الرحمان نے...

امریکا میں ٹرمپ مخالفت بڑھ گئی،ٹرمپ کو اب ضرور جانا چاہئے، شکاگو میں بینرز لگ گئے

امریکی شہر شکاگو میں ایک احتجاجی بینر منظرِ عام...