پاکستان کے افریقی ممالک کے ساتھ تجارتی اور اقتصادی روابط میں نمایاں پیش رفت دیکھنے میں آ رہی ہے، جہاں حکومت کی مؤثر پالیسیوں اور عالمی تجارتی روابط میں توسیع کے نتیجے میں کینیا اور ایتھوپیا سمیت مختلف افریقی ممالک کے ساتھ تجارتی تعلقات مزید مستحکم ہو رہے ہیں۔
ماہرین کے مطابق افریقی منڈیاں پاکستان کے لیے نئی معاشی راہیں کھول رہی ہیں، جو مستقبل میں برآمدات اور سرمایہ کاری کے فروغ میں اہم کردار ادا کر سکتی ہیں۔
سرکاری اعداد و شمار کے مطابق جولائی تا مارچ 2025-26 کے دوران کینیا کو پاکستانی برآمدات میں 32 فیصد نمایاں اضافہ ریکارڈ کیا گیا، جبکہ مجموعی برآمدات 251.6 ملین ڈالر سے بڑھ کر 319.9 ملین ڈالر تک پہنچ گئیں۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ اضافہ پاکستان کی برآمدی حکمتِ عملی کی کامیابی اور افریقی منڈیوں میں پاکستانی مصنوعات کی بڑھتی ہوئی طلب کا واضح ثبوت ہے۔
رپورٹس کے مطابق چاول، ٹیکسٹائل، ادویات، آئی ٹی سروسز اور قابلِ تجدید توانائی سے متعلق مصنوعات پاکستانی برآمدات میں اضافے کی بڑی وجہ بن رہی ہیں۔ خاص طور پر پاکستانی باسمتی چاول، فارماسیوٹیکل مصنوعات اور ٹیکسٹائل مصنوعات کو افریقی ممالک میں نمایاں پذیرائی حاصل ہو رہی ہے، جبکہ آئی ٹی اور ڈیجیٹل سروسز کے شعبے میں بھی پاکستان کے لیے وسیع مواقع پیدا ہو رہے ہیں۔
سابق چیف ایگزیکٹو ٹریڈ ڈیولپمنٹ اتھارٹی آف پاکستان (TDAP) محمد زبیر موتی والا نے کہا ہے کہ افریقی منڈیوں میں پاکستانی برآمدات میں نمایاں اضافہ خوش آئند ہے اور فارما، چاول، پلاسٹک اور ٹیکسٹائل سمیت مختلف شعبوں میں مزید وسیع مواقع موجود ہیں۔ انہوں نے زور دیا کہ پاکستانی فارما پراڈکٹس کی عالمی منظوری اور رجسٹریشن کے لیے مؤثر لابنگ کی ضرورت ہے تاکہ بین الاقوامی مارکیٹ میں پاکستان کی رسائی مزید مضبوط ہو سکے۔
دوسری جانب وفاقی وزیر تجارت جام کمال خان اور ایتھوپیا کے سفیر ڈاکٹر عمر حسین اوبا کے درمیان ہونے والی اہم ملاقات میں افریقی منڈیوں میں چھوٹے اور درمیانے درجے کے کاروباری اداروں (SMEs)، مشترکہ سرمایہ کاری اور صنعتی تعاون کے فروغ پر تبادلۂ خیال کیا گیا۔ ملاقات میں دونوں ممالک کے درمیان تجارتی روابط کو مزید مستحکم بنانے اور نئی سرمایہ کاری کے مواقع پیدا کرنے پر زور دیا گیا۔
محمد زبیر موتی والا نے اس موقع پر کہا کہ اسپیشل انویسٹمنٹ فیسیلیٹیشن کونسل (SIFC) کو “میڈ اِن پاکستان” کو عالمی منڈی میں ایک قابلِ اعتماد اور قابلِ فروخت برانڈ بنانے کے لیے مؤثر کردار ادا کرنا ہوگا۔
انہوں نے عالمی منڈیوں تک رسائی اور کاروباری وسعت کے لیے ’بی ٹو بی‘ روابط اور ’بی ٹو جی‘ وفود کے تبادلوں کو ناگزیر قرار دیتے ہوئے کہا کہ یہی حکمتِ عملی پاکستان کی برآمدات میں پائیدار اضافے کا ذریعہ بن سکتی ہے۔
ماہرینِ معیشت کے مطابق بین الاقوامی سطح پر پاکستان کے تجارتی تعلقات کا مضبوط ہونا نہ صرف ملکی معیشت کے استحکام کی علامت ہے بلکہ یہ برآمدات میں اضافے، زرمبادلہ کے ذخائر میں بہتری اور صنعتی ترقی کی جانب بھی ایک مثبت پیش رفت تصور کی جا رہی ہے۔


