ٹرمپ کا دورہ چین، صدر شی جن پنگ سےملاقات،حریف نہیں بلکہ شراکت دار بننا ہے،گفتگو

Date:

شی جن پنگ نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ سے ملاقات کے دوران کہا ہے کہ تمام عالمی بحرانوں کا حل صرف سفارت کاری اور مذاکرات میں پوشیدہ ہے، جبکہ چین اور امریکا کو اختلافات کے باوجود باہمی احترام اور پرامن بقائے باہمی کے اصولوں پر عمل کرنا ہوگا۔

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اپنے دو روزہ سرکاری دورے پر بیجنگ پہنچے جہاں گریٹ ہال آف دی پیپل میں ان کا پرتپاک استقبال کیا گیا۔

چینی صدر شی جن پنگ نے امریکی صدر کا خیرمقدم کیا اور دونوں رہنماؤں نے ایک دوسرے سے مصافحہ کیا۔ بعد ازاں دونوں ممالک کے وفود کے ہمراہ اہم ملاقات ہوئی جس میں عالمی امن، تجارت اور بین الاقوامی استحکام پر تبادلہ خیال کیا گیا۔

چینی صدر شی جن پنگ نے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ چین اور امریکا دنیا کی دو بڑی طاقتیں ہیں اور عالمی استحکام دونوں کا مشترکہ ہدف ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ پوری دنیا کی نظریں اس وقت بیجنگ میں ہونے والے مذاکرات پر مرکوز ہیں، جبکہ عالمی امن اور معاشی ترقی کو برقرار رکھنا دونوں ممالک کی تاریخی ذمہ داری ہے۔

شی جن پنگ نے کہا کہ دنیا اس وقت ایران تنازع، عالمی سپلائی چین کے مسائل اور تیزی سے بدلتی بین الاقوامی صورتحال جیسے سنگین چیلنجز سے گزر رہی ہے۔

انہوں نے زور دیا کہ دونوں ممالک کو تصادم کے بجائے تعاون کا راستہ اپنانا چاہیے کیونکہ چین اور امریکا تعاون سے فائدہ اٹھا سکتے ہیں جبکہ محاذ آرائی دونوں کے لیے نقصان دہ ہوگی۔

چینی صدر کا کہنا تھا کہ دونوں ممالک کے درمیان اختلافات سے زیادہ مشترکہ مفادات موجود ہیں اور مستحکم دوطرفہ تعلقات پوری دنیا کے لیے فائدہ مند ثابت ہوں گے۔

انہوں نے کہا کہ امریکا اور چین کو ایک دوسرے کا حریف نہیں بلکہ شراکت دار بننا چاہیے اور مل کر عالمی چیلنجز کا مقابلہ کرنا چاہیے۔

اس موقع پر امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے ابتدائی کلمات میں کہا کہ صدر شی جن پنگ سے ملاقات ان کے لیے باعث اعزاز ہے اور وہ انہیں ایک عظیم رہنما اور دوست سمجھتے ہیں۔

ٹرمپ نے کہا کہ وہ اپنے ساتھ دنیا کے بہترین کاروباری رہنماؤں کو چین لائے ہیں اور اس تاریخی سربراہی ملاقات کا بنیادی فوکس باہمی تجارت اور مستقبل کے اقتصادی تعلقات ہوں گے۔

امریکی صدر نے مزید کہا کہ ان کے اور شی جن پنگ کے تعلقات ہمیشہ شاندار رہے ہیں اور جب بھی دونوں ممالک کو کسی مشکل کا سامنا ہوا تو باہمی رابطے کے ذریعے فوری حل نکالا گیا۔ ٹرمپ نے امید ظاہر کی کہ آنے والی کئی دہائیوں تک چین اور امریکا کے درمیان مضبوط اور بہترین تعلقات قائم رہیں گے۔

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here

Share post:

Subscribe

spot_imgspot_img

Popular

More like this
Related