ایران کی نیم سرکاری مہر خبررساں ایجنسی کے مطابق امریکی اخبار وال اسٹریٹ جرنل نے انکشاف کیا ہے کہ امریکا اور قطر ایران کو اس کے 6 ارب ڈالر سے زائد مالیت کے منجمد اثاثوں تک محدود رسائی فراہم کرنے کے لیے ایک نئے طریقہ کار پر کام کر رہے ہیں۔
رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ مجوزہ انتظام کے تحت ایران ان فنڈز کو صرف ضروری اشیائے خورونوش، ادویات اور دیگر انسانی ہمدردی کی بنیاد پر درکار سامان کی خریداری کے لیے استعمال کر سکے گا، جبکہ رقوم کے استعمال پر سخت نگرانی برقرار رکھی جائے گی۔
اس سے قبل برطانوی اخبار فائننشل ٹائمز نے بھی ایک باخبر ذریعے کے حوالے سے رپورٹ کیا تھا کہ واشنگٹن ایران کے منجمد اثاثوں کی جزوی بحالی پر غور کر رہا ہے۔ ذرائع کے مطابق یہ پیش رفت ایران اور امریکا کے درمیان حالیہ مفاہمتی یادداشت کے تناظر میں سامنے آئی ہے۔
رپورٹس میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ دونوں ممالک کے درمیان طے پانے والے فریم ورک کے تحت ان فنڈز کا استعمال صرف انسانی ہمدردی کی بنیاد پر درکار اشیا اور ایسی مصنوعات کی خریداری تک محدود ہوگا جو بین الاقوامی پابندیوں کی زد میں نہیں آتیں۔
واضح رہے کہ ایران کے یہ منجمد اثاثے اس وقت قطر میں محفوظ ہیں اور گزشتہ چند برسوں سے ان کے اجراء اور استعمال کے حوالے سے مختلف سفارتی مذاکرات جاری رہے ہیں۔ تاہم اس حوالے سے امریکا، قطر یا ایران کی جانب سے تاحال کوئی باضابطہ اعلان سامنے نہیں آیا۔


