اسلام آباد مفاہمتی یادداشت کے تحت امریکا اور ایران کے درمیان تکنیکی سطح کے اہم مذاکرات 21 جون کو سوئٹزرلینڈ میں منعقد ہوں گے، جن میں معاہدے پر عملدرآمد اور مستقبل کے لائحہ عمل پر غور کیا جائے گا۔
ترجمان دفتر خارجہ کے مطابق سوئٹزرلینڈ کے شہر برگن اسٹاک میں ہونے والے مذاکرات میں امریکا، ایران، پاکستان اور قطر کے نمائندے شرکت کریں گے۔
یہ مذاکرات اسلام آباد مفاہمتی یادداشت پر دستخط کے بعد فالو اپ عمل کا حصہ ہیں، جن کا مقصد معاہدے کے مختلف پہلوؤں کو عملی شکل دینا ہے۔
ترجمان دفتر خارجہ نے کہا کہ پاکستان ثالث اور سہولت کار کے طور پر اپنا کردار جاری رکھے گا اور اسلام آباد مفاہمتی یادداشت کے تحت طے پانے والی مفاہمت کو آگے بڑھانے کے لیے تمام ممکنہ سفارتی کوششیں بروئے کار لائے گا۔ ان کے مطابق پاکستان خطے میں امن، استحکام اور مذاکراتی عمل کے فروغ کے لیے اپنی ذمہ داریاں ادا کرتا رہے گا۔
دوسری جانب امریکا کے نائب صدر جے ڈی وینس نے بھی ایران کے ساتھ مذاکراتی عمل میں پیش رفت کی تصدیق کرتے ہوئے کہا ہے کہ ایران کے ساتھ بات چیت کے لیے معاملات مثبت سمت میں آگے بڑھ رہے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ ایران سے مذاکرات کل متوقع ہیں اور ممکنہ طور پر وہ آئندہ دو روز کے دوران سوئٹزرلینڈ کا دورہ بھی کر سکتے ہیں۔
جے ڈی وینس کے مطابق امریکی نمائندہ اسٹیو وٹکوف اور صدر ٹرمپ کے داماد جیرڈ کشنر پہلے ہی سوئٹزرلینڈ میں موجود ہیں اور مذاکراتی عمل کو آگے بڑھانے کے لیے مختلف سفارتی رابطے جاری رکھے ہوئے ہیں۔
ادھر ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے اعلان کیا ہے کہ ایرانی مذاکراتی وفد سوئٹزرلینڈ روانہ ہو رہا ہے اور مذاکرات میں مفاہمتی یادداشت پر مکمل عملدرآمد کا مطالبہ کرے گا۔
اسماعیل بقائی نے کہا کہ ایران اپنی تمام ذمہ داریوں اور وعدوں پر عمل کر چکا ہے، جبکہ امریکا پر لازم ہے کہ وہ اسرائیل کو لبنان پر حملے بند کرنے پر مجبور کرے۔ ان کے مطابق اگر معاہدے کے دوسرے فریق نے اپنی ذمہ داریوں کی پاسداری نہ کی تو پورا سمجھوتہ خطرے میں پڑ سکتا ہے۔
انہوں نے خبردار کیا کہ اگر امریکا اور اس کے اتحادی اپنے وعدوں پر عملدرآمد میں ناکام رہے تو ایران مناسب جوابی اقدامات کا حق محفوظ رکھتا ہے، تاہم تہران اب بھی سفارتی راستے اور معاہدے کے مکمل نفاذ کو ترجیح دیتا ہے۔
مبصرین کے مطابق سوئٹزرلینڈ میں ہونے والے یہ مذاکرات نہ صرف اسلام آباد مفاہمتی یادداشت کے مستقبل بلکہ ایران، امریکا اور خطے کی مجموعی سیاسی صورتحال کے لیے بھی انتہائی اہمیت کے حامل ہیں۔


