شہید امام سید علی خامنہ ای کی تشییعِ جنازہ کے منتظمین نے دنیا کی تاریخ کے سب سے بڑے جنازوں کا تقابلی انفوگرافک جاری کرتے ہوئے یہ سوال اٹھایا ہے کہ کیا موجودہ جنازے کی تقریبات شرکاء کی تعداد کے لحاظ سے ایک نیا عالمی ریکارڈ قائم کریں گی؟
جاری کردہ انفوگرافک میں تاریخ کے چند بڑے جنازوں کا تقابلی جائزہ پیش کیا گیا ہے۔ اس کے مطابق بھارتی ریاست تامل ناڈو کے سابق وزیر اعلیٰ سی این انا دورائی کے جنازے میں تقریباً ایک کروڑ پچاس لاکھ (15 ملین) افراد نے شرکت کی، جو اب تک دنیا کے بڑے عوامی جنازوں میں شمار کیا جاتا ہے۔
اسی طرح 1989ء میں اسلامی جمہوریہ ایران کے بانی امام روح اللہ خمینی کے جنازے میں تقریباً ایک کروڑ دو لاکھ (10.2 ملین) افراد شریک ہوئے تھے، جبکہ 1970ء میں مصر کے سابق صدر جمال عبدالناصر کی آخری رسومات میں شرکت کرنے والوں کی تعداد تقریباً 50 لاکھ (5 ملین) بتائی گئی تھی۔
منتظمین نے تاحال شہید امام سید علی خامنہ ای کے جنازے میں شریک افراد کی حتمی تعداد جاری نہیں کی، جس کے باعث مجموعی اعداد و شمار کے حوالے سے صورتحال ابھی واضح نہیں ہے۔ تاہم انفوگرافک میں یہ سوال ضرور اٹھایا گیا ہے کہ آیا موجودہ تشییعی تقریبات شرکاء کی تعداد کے لحاظ سے دنیا کی تاریخ کا سب سے بڑا جنازہ ثابت ہوں گی۔
منتظمین کے ابتدائی اندازوں کے مطابق اگر ایران کے مختلف صوبوں سے عوام کی آمد اسی رفتار سے جاری رہی تو عزاداروں کی تعداد دو کروڑ (20 ملین) سے بھی تجاوز کر سکتی ہے، جس سے یہ تقریب دنیا کی تاریخ کے سب سے بڑے عوامی جنازوں میں شامل ہو سکتی ہے۔
تاہم متعلقہ حکام نے واضح کیا ہے کہ شرکاء کی حتمی تعداد کا سرکاری اعلان ابھی نہیں کیا گیا اور تمام تقریبات کے اختتام کے بعد ہی باضابطہ اعداد و شمار جاری کیے جائیں گے۔


