نو منتخب وزیر اعلیٰ گلگت بلتستان امجد حسین ایڈووکیٹ نے حلف اٹھا لیا

Date:

گلگت بلتستان کے نو منتخب وزیر اعلیٰ امجد حسین ایڈووکیٹ نے اپنے عہدے کا حلف اٹھا لیا۔ چنار باغ گلگت میں منعقدہ تقریب میں گونر گلگت بلتستان سید مہدی شاہ نے ان سے حلف لیا

حلف برداری کی پروقار تقریب میں پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری سمیت وفاقی اور صوبائی رہنماؤں، اراکین اسمبلی، اعلیٰ سرکاری حکام اور مختلف شعبہ ہائے زندگی سے تعلق رکھنے والی شخصیات نے شرکت کی۔

حلف اٹھانے کے بعد اپنے پہلے خطاب میں وزیر اعلیٰ امجد حسین ایڈووکیٹ نے کہا کہ ان کی حکومت گلگت بلتستان کو گڈ گورننس، شفافیت اور ترقی کا ماڈل خطہ بنانے کے لیے بھرپور اقدامات کرے گی۔

انہوں نے کہا کہ عوام نے ان پر جس اعتماد کا اظہار کیا ہے، اس پر پورا اترنے کے لیے میرٹ، شفافیت اور عوامی خدمت کو اپنی حکومت کا بنیادی اصول بنایا جائے گا۔

انہوں نے کہا کہ گلگت بلتستان جغرافیائی لحاظ سے انتہائی اہم خطہ ہے جو چین، افغانستان اور تاجکستان کے درمیان رابطے کا قدرتی مرکز ہے، اس لیے خطے میں مواصلاتی نظام، سرحدی تجارت اور اقتصادی روابط کو مزید فروغ دینے کی ضرورت ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ بطور وزیر خارجہ بلاول بھٹو زرداری نے چین کے ساتھ موسمی تجارت کو آل ویدر ٹریڈ میں تبدیل کرنے کے لیے اہم کردار ادا کیا، جبکہ چین کے ساتھ پاکستان کے دیرینہ تعلقات کی بنیاد ذوالفقار علی بھٹو نے رکھی اور بعد ازاں آصف علی زرداری کے دور میں چین پاکستان اقتصادی راہداری (سی پیک) کے تصور کو عملی شکل ملی۔

وزیر اعلیٰ نے کہا کہ گلگت بلتستان کی آبادی تقریباً 18 لاکھ نفوس پر مشتمل ہے اور عوام کو درپیش مسائل کے حل کے لیے انتظامی اصلاحات، شفاف مالیاتی نظام اور بہتر طرز حکمرانی ناگزیر ہے۔

انہوں نے بتایا کہ گلگت بلتستان کی ضروریات کے مطابق سالانہ بجٹ تقریباً 258 ارب روپے بنتا ہے، جبکہ وفاق کی جانب سے اب تک صرف 142 ارب روپے فراہم کرنے کی یقین دہانی کرائی گئی ہے، جو خطے کی ضروریات پوری کرنے کے لیے ناکافی ہے۔

انہوں نے وفاقی حکومت سے مطالبہ کیا کہ گلگت بلتستان کے ساتھ کیے گئے مالی وعدے پورے کیے جائیں۔ ان کا کہنا تھا کہ صرف سبسڈی کی مد میں 29 ارب روپے درکار تھے، لیکن وفاق نے اس رقم کو کم کر کے 15 ارب روپے کر دیا، جس سے ترقیاتی منصوبوں اور عوامی خدمات کی فراہمی متاثر ہو سکتی ہے۔

وزیراعلیٰ امجد حسین ایڈووکیٹ نے کہا کہ بجلی کی طویل لوڈشیڈنگ گلگت بلتستان کا سب سے بڑا مسئلہ ہے، جہاں بعض علاقوں میں شہریوں کو 22 گھنٹے تک بجلی کی بندش کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ اس بحران کی وجوہات میں فنڈز کی کمی، منصوبوں میں تاخیر اور انتظامی کمزوریاں شامل ہیں، تاہم ان کی حکومت اس مسئلے کو ترجیحی بنیادوں پر حل کرے گی۔

انہوں نے اعلان کیا کہ وفاقی حکومت کے زیر تکمیل تمام پن بجلی منصوبوں کو ہنگامی بنیادوں پر مکمل کرانے کے لیے بھرپور کوششیں کی جائیں گی اور اس حوالے سے کسی بھی قسم کی غفلت یا تاخیر برداشت نہیں کی جائے گی۔ ان کے مطابق توانائی کے بحران پر قابو پانا حکومت کی اولین ترجیح ہوگی تاکہ عوام کو ریلیف ملے اور خطے میں معاشی سرگرمیوں کو فروغ حاصل ہو۔

اپنے خطاب کے اختتام پر وزیر اعلیٰ نے اس عزم کا اظہار کیا کہ ان کی حکومت وفاق، عوام اور تمام اسٹیک ہولڈرز کے تعاون سے گلگت بلتستان کو ترقی، خوشحالی، بہتر انفراسٹرکچر، مؤثر حکمرانی اور پائیدار اقتصادی استحکام کی راہ پر گامزن کرنے کے لیے ہر ممکن اقدام کرے گی۔

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here

Share post:

Subscribe

spot_imgspot_img

Popular

More like this
Related