پاکستان اور ایران کے مابین سرمایہ کاری اور تجارتی روابط میں ایک اہم سنگِ میل عبور کر لیا گیا ہے، جہاں دونوں ممالک نے باہمی تعاون کو نئی جہت دینے پر اتفاق کیا ہے۔
پاکستان میں تیز رفتار ترقی، سرمایہ کاری اور تجارتی مواقع کے فروغ میں اسپیشل انویسٹمنٹ فسیلیٹیشن کونسل (ایس آئی ایف سی) کے کلیدی کردار کو سراہا گیا ہے۔
فیڈریشن آف پاکستان چیمبرز آف کامرس اینڈ انڈسٹری (ایف پی سی سی آئی) کے صدر عاطف اکرام شیخ اور پاکستان میں تعینات ایرانی قونصل جنرل اکبر عیسیٰ زادہ کے درمیان ایک اہم ملاقات ہوئی، جس میں پاک۔ایران دو طرفہ تجارت کو 10 ارب ڈالر تک بڑھانے کے خطیر ہدف کا تعین کیا گیا۔
ملاقات میں پاکستان اور ایران کے درمیان مشترکہ تجارتی کمیٹی کے قیام اور باہمی تجارتی حجم میں اضافے پر اتفاق کیا گیا۔ فریقین نے نجی شعبے کے کردار کو فروغ دینے اور اقتصادی و صنعتی تعاون کو مزید مضبوط بنانے کی ضرورت پر زور دیا۔
اس موقع پر قزوین چیمبر آف کامرس کے سربراہ اور اراکین کی کراچی میں منعقدہ تجارتی و صنعتی نمائش میں خصوصی شرکت بھی قابلِ ذکر رہی۔ نمائش کے دوران زراعت، کیمیائی صنعت، ایل این جی اور توانائی کے شعبوں میں مشترکہ سرمایہ کاری کے مواقع پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔
شرکاء کا کہنا تھا کہ پاک۔ایران تجارتی تعلقات کے استحکام سے علاقائی اور بین الاقوامی منڈیوں تک رسائی میں اضافہ ممکن ہوگا، جبکہ دو طرفہ تجارتی تعاون سے معاشی استحکام، روزگار کے مواقع میں اضافہ اور خوشحالی کی نئی راہیں کھلیں گی۔
ملاقات میں اس بات پر بھی زور دیا گیا کہ ایس آئی ایف سی کی دوراندیش حکمت عملی پاکستان کے بین الاقوامی اور اقتصادی روابط میں خوش آئند بہتری کا باعث بن رہی ہے، جو غیر ملکی سرمایہ کاری کے فروغ میں اہم کردار ادا کر رہی ہے۔


