خیبر پختونخوا میں پولیس کی گاڑی پرخوارج کی فائرنگ ، ایس ایچ او اور 2 کانسٹیبل شہید

Date:

بھارت اور افغانستان کے پیسوں پر پلنے والے فتنہ الخوارج کا ایک بارپھر پاک وطن پر وار،پشاور کے نواحی علاقے بانڈہ داؤد شاہ میں پولیس کی گاڑی پر نامعلوم دہشت گردوں نے اندھا دھند فائرنگ سےایس ایچ او عمر نواز سمیت تین پولیس اہلکار موقع پر ہی شہید ہوگئے۔ پولیس کے مطابق یہ حملہ اس وقت ہوا جب اہلکار معمول کے گشت پر تھے۔اچانک کئے گئے حملے سے جوانوں کا سنبھلنے کا موقع نہیں ملا، جوابی کارروائی تو کی لیکن دہشت گردوں کا حملہ کارگر ثابت ہوا،اورمزید تین سپوتوں نے اپنی جان پاک وطن پر قربان کردی.یہ کوئی پہلا واقعہ نہیں۔ پچھلے چند ماہ میں خیبر پختونخوا کے مختلف علاقوں میں پولیس، فورسز اور عام شہریوں پر حملوں میں تشویشناک اضافہ دیکھنے میں آیا ہے۔ اور اس لہر کے پیچھے جو چہرہ سب سے زیادہ نمایاں ہے، وہ ٹی ٹی پی کے خوارج ہیں۔ وہی گروہ جو کبھی قبائلی علاقوں میں چھپ کر وار کرتا تھا، اب سرحد پار افغانستان سے داخل ہو کر ببانگِ دہل خون کی ہولی کھیل رہا ہے۔ پاکستان نے بارہا افغان حکومت کو باور کرایا کہ ان درندوں کو روکا جائے، ان کے محفوظ ٹھکانے ختم کیے جائیں، لیکن نتیجہ کیا نکلا؟ طالبان کی حکومت، جو خود کو اسلامی نظام کا علمبردار کہتی ہے، ان قاتل گروہوں کے خلاف ایک عملی قدم تک نہ اٹھا سکی۔اصل المیہ یہ ہے کہ افغان حکومت میں ایسے طالبان دھڑے موجود ہیں جو ان دہشت گردوں کے خلاف کاررائی میں بھی  رکاوٹ ہیں۔ یہ وہی عناصر ہیں جو پاکستان کے امن کو اپنی متعصب سوچ کی بھینٹ چڑھانے پر تلے ہوئے ہیں۔لیکن سوال یہ ہے کہ آخر کب تک ہمارے جوان یوں دہشت گردوں کی گولیوں کا نشانہ بنتے رہیں گے؟ہم کب تک یہ ڈھکوسلے سنتے رہیں گے کہ  افغانستان اپنی سرزمین کسی کے خلاف استعمال نہیں ہونے دے گا؟ حقیقت تو یہ ہے کہ ہر آنے والا دن پاکستان کے امن پر وار کیا جا رہاہے، جب پاکستان جوابی کارروائی کرتا ہے تو چیخیں آسمانوں کو چیئر رہی ہوتی ہیں.افغان سرزمین سے ہونے والی یہ سازشیں پاکستان کے لیے کسی ایٹمی حملے سے کم نہیں۔ ہمارے شہید جوانوں کے خون کا حساب کون دے گا؟ وہ جو کابل میں اقتدار کے مزے لوٹ رہے ہیں اور اسلام کا نام بیچ کر قاتلوں کو پناہ دے رہے ہیں، یا وہ جن کے ہاتھ ہمارے نوجوانوں کے لہو سے رنگے ہیں؟یہ دہشت گردی صرف پولیس یا فورسز کے خلاف نہیں، بلکہ یہ پاکستان کے وجود کے خلاف ایک اعلانِ جنگ ہے۔ اب اگر ہم نے فیصلہ کن کارروائی نہ کی تو کل شاید یہ خونی کھیل ہمارے گھروں تک آ پہنچے۔ سوال یہ نہیں کہ دشمن کون ہے، سوال یہ ہے کہ ہم کب تک خاموش تماشائی بنے رہیں گے؟

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here

Share post:

Subscribe

spot_imgspot_img

Popular

More like this
Related

یوروبانڈز کے ذریعے موصول رقم سے زرمبادلہ کےذخائر بڑھ گئے،اسٹیٹ بینک آف پاکستان

اسٹیٹ بینک آف پاکستان کی جانب سے جاری کردہ...

جنگ بندی کے بعد ایران کے ساتھ جنگ ختم ہوچکی ہے،ٹرمپ انتظامیہ کا دعویٰ

ٹرمپ ایڈامنسٹریشن کے ایک سینئر عہدیدار نے دعویٰ کیا...

امریکی سینیٹ،ایران جنگ کے خاتمے کی قرارداد چھٹی مرتبہ ناکام

امریکی سینیٹ نے ایران میں امریکی فوجی کارروائیوں کے...

امریکہ کا ایرانی حکومت کے بیرونِ ملک موجود پنشن فنڈز کے اکاؤنٹس منجمد کرنے پر غور

 برطانوی  نشریاتی ادارے بی بی سی کے مطابق امریکا...