حساس علاقائی کشیدگی کے دوران جاری سفارتی مذاکرات کے بیچ ایرانی ڈرون فطرس کا نام خطے کی فضاؤں میں ایک اہم اسٹریٹیجک قوت کے طور پر سامنے آیا ہے۔
رپورٹس کے مطابق یہ بڑا ڈرون خطے کے سمندری علاقوں میں امریکی بحری افواج کی نقل و حرکت کی نگرانی کی صلاحیت رکھتا ہے، جسے مبصرین علاقائی طاقت کے توازن میں تبدیلی کی علامت قرار دے رہے ہیں۔
فطرس کو محض ایک جاسوس طیارہ نہیں بلکہ طویل فاصلے تک نگرانی اور ہدفی کارروائی کی صلاحیت رکھنے والا پلیٹ فارم بتایا جا رہا ہے۔
یہ ڈرون طویل دورانیے تک پرواز، درست معلومات کے حصول اور حساس مشنز کی انجام دہی کی صلاحیت رکھتا ہے، جبکہ اسے مقامی ٹیکنالوجی سے تیار کیا گیا ہے۔
دفاعی تجزیہ کاروں کے مطابق فطرس کی رینج، بلندی پر پرواز کی اہلیت اور ممکنہ اسلحہ برداری کی صلاحیت اسے خطے میں اسٹریٹیجک رسائی اور دفاعی باز deterrence کی علامت بناتی ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ فطرس کی موجودگی ایک واضح پیغام ہے کہ علاقائی توازن میں نئی جہتیں شامل ہو چکی ہیں اور مقامی دفاعی صنعت نمایاں کردار ادا کر رہی ہے۔


