روس کے نائب وزیر خارجہ سرگئی ریابکوف نے کہا ہے کہ روس، چین اور دیگر شراکت دار ایران اور امریکہ کے درمیان جاری مذاکرات کے لیے سازگار سیاسی ماحول پیدا کرنے میں معاونت کر رہے ہیں۔
ایران کی نیم سرکاری مہر خبررساں ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق ریابکوف نے انکشاف کیا کہ ماسکو اور بیجنگ سفارتی سطح پر متحرک کردار ادا کر رہے ہیں تاکہ ایران اور امریکہ کے درمیان بات چیت کے عمل کو تقویت مل سکے۔
روسی خبررساں ادارے TASS کو دیے گئے انٹرویو میں انہوں نے کہا کہ روسی حکام ایرانی قیادت سے مسلسل رابطے میں ہیں اور چین سمیت دیگر شراکت داروں کے ساتھ مل کر مذاکراتی فضا کو بہتر بنانے کی کوششیں جاری رکھے ہوئے ہیں۔
ان کے مطابق ایران اس وقت اپنے شراکت دار ممالک سے براہِ راست جبکہ امریکہ سے بالواسطہ رابطے کر رہا ہے، جو زیادہ تر عرب ممالک کی ثالثی کے ذریعے انجام پا رہے ہیں۔
یاد رہے کہ ایران اور امریکہ کے درمیان حالیہ مذاکراتی دور 6 فروری کو عمان میں منعقد ہوا تھا، جس میں ایرانی وفد کی قیادت وزیر خارجہ عباس عراقچی جبکہ امریکی وفد کی سربراہی خصوصی ایلچی اسٹیو وٹکوف نے کی تھی۔ مذاکرات کو خطے میں کشیدگی میں کمی کی کوششوں کا اہم حصہ قرار دیا جا رہا ہے۔


