چین کے صدر شی جن پنگ نے کہا ہے کہ آبنائے ہرمز سے بحری جہازوں کی معمول کے مطابق آمدورفت جاری رہنی چاہیے، کیونکہ یہ نہ صرف خطے کے ممالک بلکہ عالمی برادری کے مشترکہ مفاد میں ہے۔
چینی خبر رساں ادارے زنہوا نیوز ایجنسی کے مطابق صدر شی نے یہ بات سعودی عرب کے ولی عہد محمد بن سلمان کے ساتھ ٹیلی فونک گفتگو کے دوران کہی، جس میں مشرقِ وسطیٰ کی موجودہ کشیدہ صورتحال پر تبادلہ خیال کیا گیا۔
گفتگو کے دوران شی جن پنگ نے زور دیا کہ خطے میں فوری اور جامع جنگ بندی ناگزیر ہے، جبکہ تمام عسکری کارروائیوں کا خاتمہ ہونا چاہیے تاکہ امن کی بحالی ممکن ہو سکے۔
انہوں نے کہا کہ چین امن کے قیام کے لیے کی جانے والی ہر کوشش کی حمایت کرتا ہے اور کشیدگی کم کرنے کے لیے سفارتی راستوں کو ترجیح دینے کا خواہاں ہے۔
چینی صدر کا کہنا تھا کہ آبنائے ہرمز عالمی تجارت کا ایک اہم راستہ ہے اور اس میں کسی بھی قسم کی رکاوٹ عالمی معیشت پر منفی اثرات مرتب کر سکتی ہے، اس لیے اس کی بحالی اور تسلسل کو یقینی بنانا تمام متعلقہ فریقین کی مشترکہ ذمہ داری ہے۔


