وزیرِ اعظم شہباز شریف نے ایرانی وزیرِ خارجہ عباس عراقچی اور ان کے اعلیٰ سطحی وفد کا وفاقی دارالحکومت اسلام آباد میں اپنی رہائش گاہ پر استقبال کیا، جہاں دوطرفہ تعلقات، علاقائی صورتحال اور عالمی پیش رفت پر تفصیلی مشاورت کی گئی۔
ملاقات میں نائب وزیرِ اعظم و وزیرِ خارجہ اسحاق ڈار بھی شریک تھے، جبکہ دونوں رہنماؤں نے تجارت، معیشت، سکیورٹی اور سفارتی شعبوں سمیت مختلف شعبہ جات میں پاک ایران تعاون کو مزید وسعت دینے کے امکانات پر غور کیا۔ اس موقع پر خطے کو درپیش موجودہ چیلنجز اور اہم علاقائی معاملات پر بھی تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔

وزیرِ اعظم شہباز شریف نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ پاکستان اور ایران کی قیادت دوطرفہ تعلقات کو مزید مضبوط بنانے اور بین الاقوامی فورمز پر باہمی تعاون و ہم آہنگی کو فروغ دینے کے لیے پُرعزم ہے۔ انہوں نے امید ظاہر کی کہ دونوں ممالک مشترکہ مفادات کے حصول کے لیے اپنے روابط کو مزید مستحکم کریں گے۔
ایرانی وزیرِ خارجہ عباس عراقچی نے ایرانی قیادت، بالخصوص صدر مسعود پزشکیان کی جانب سے پڑوسی ممالک، خصوصاً پاکستان کے ساتھ تعلقات کو مزید فروغ دینے میں گہری دلچسپی کا اظہار کیا اور کہا کہ تہران اسلام آباد کے ساتھ مختلف شعبوں میں تعاون بڑھانے کے لیے سنجیدہ ہے۔
انہوں نے جنگ بندی کے قیام اور تنازعات کے خاتمے کے لیے پاکستان کی سفارتی کوششوں کو سراہا اور اس حوالے سے ایران کے اصولی مؤقف سے بھی آگاہ کیا۔
عباس عراقچی نے فلسطین اور لبنان کی موجودہ صورتحال پر بھی روشنی ڈالی، اسرائیلی جارحیت کے تسلسل پر تشویش کا اظہار کیا اور فلسطینی عوام کی حمایت پر مبنی پاکستان کے مؤقف کو سراہتے ہوئے لبنان میں جنگ بندی معاہدوں پر عملدرآمد میں دلچسپی کا اظہار کیا۔


