امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے دعویٰ کیا ہے کہ امریکی فورسز نے آبنائے ہرمز میں ناکہ بندی عبور کرنے کی کوشش کرنے والے ایرانی پرچم بردار ایک کارگو جہاز کو روک کر اپنی تحویل میں لے لیا ہے۔
صدر ٹرمپ کے مطابق امریکی اہلکاروں نے ابتدائی طور پر جہاز کو وارننگ جاری کی، تاہم عملے کی جانب سے عدم توجہ کے بعد امریکی بحریہ نے کارروائی کرتے ہوئے جہاز کے انجن روم کو نشانہ بنایا، جس کے نتیجے میں اسے روک کر مکمل کنٹرول حاصل کر لیا گیا۔
امریکی صدر نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پر بیان دیتے ہوئے کہا کہ "توسکا” نامی یہ جہاز خلیجِ عمان میں روکا گیا، جو امریکی محکمہ خزانہ کی پابندیوں کی فہرست میں بھی شامل ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ جہاز ماضی میں بھی مبینہ غیر قانونی سرگرمیوں میں ملوث رہا ہے، جبکہ اس میں موجود سامان کا تفصیلی جائزہ لیا جا رہا ہے۔
دوسری جانب اس اہم پیش رفت پر ایران کی جانب سے تاحال کوئی باضابطہ ردعمل سامنے نہیں آیا، جس کے باعث واقعے کی مکمل تفصیلات اور حقائق تاحال غیر واضح ہیں۔
ماہرین کے مطابق اس واقعے کے بعد خطے میں کشیدگی میں مزید اضافہ ہونے کا خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے، خصوصاً ایسے وقت میں جب خلیجی پانیوں میں پہلے ہی سیکیورٹی صورتحال حساس ہے۔


