امریکی اخبار نیویارک ٹائمز کی ایک رپورٹ میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ روس بحیرہ کیسپیئن کے ذریعے ایران کو ڈرونز کے پرزے، فوجی سامان اور دیگر ضروری اشیا فراہم کر رہا ہے، جس کے باعث ایران امریکا اور اسرائیل کی حالیہ بمباری کے بعد اپنی عسکری صلاحیتیں دوبارہ بحال کرنے میں کامیاب ہو رہا ہے۔
امریکی حکام کے مطابق حالیہ جنگ کے دوران ایران کے تقریباً 60 فیصد ڈرون ذخائر ختم یا تباہ ہو گئے تھے، تاہم روسی تعاون اور مسلسل ترسیل کے ذریعے ایران تیزی سے اپنے ڈرون پروگرام کو بحال کر رہا ہے۔
رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ بحیرہ کیسپیئن روس اور ایران کے درمیان ایک اہم تجارتی اور تزویراتی راہداری کی شکل اختیار کر چکا ہے، کیونکہ دونوں ممالک اگرچہ زمینی سرحد نہیں رکھتے مگر اس سمندر کے ساتھ ان کی طویل ساحلی پٹی موجود ہے، جس سے سامان کی منتقلی آسان ہو جاتی ہے۔
امریکی حکام کا کہنا ہے کہ روس اب وہ اشیا بھی اسی راستے سے ایران بھیج رہا ہے جو پہلے عام طور پر آبنائے ہرمز کے ذریعے منتقل کی جاتی تھیں۔
رپورٹ کے مطابق اس راہداری کے ذریعے صرف فوجی سامان ہی نہیں بلکہ اناج، جانوروں کی خوراک اور دیگر بنیادی اشیائے خورونوش بھی ایران پہنچائی جا رہی ہیں، جبکہ یہ راستہ دونوں ممالک کو مغربی پابندیوں سے بچتے ہوئے تجارت جاری رکھنے میں بھی مدد فراہم کر رہا ہے۔


