روس نے ایران کے ساتھ بڑھتے ہوئے دفاعی تعاون کے تحت اپنے اہم ڈرون سازی کے منصوبے کو مزید وسعت دے دی ہے اور ایک بڑے فوجی ڈرون فیکٹری کمپلیکس کی پیداوار میں نمایاں اضافہ کیا ہے، جس سے دونوں ممالک کے درمیان دفاعی شراکت داری مزید مضبوط ہونے کی اطلاعات سامنے آئی ہیں۔
بین الاقوامی میڈیا رپورٹس کے مطابق یہ فیکٹری روس کے علاقے تاتارستان میں واقع ہے، جہاں ایران کے ڈیزائن کردہ “شاہد” طرز کے ڈرونز کی بڑے پیمانے پر تیاری کی جا رہی ہے۔
اس منصوبے کو روسی دفاعی صنعت میں ایک اہم پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے، جس کے ذریعے ماسکو اپنی فوجی ضروریات کے لیے مقامی سطح پر ڈرونز کی پیداوار بڑھا رہا ہے۔
رپورٹس کے مطابق اس فیکٹری میں تیار کیے جانے والے ڈرونز ایران کے مشہور شاہد 136 ماڈل پر مبنی ہیں، جنہیں روس اپنی افواج کے لیے مختلف عسکری مقاصد میں استعمال کر رہا ہے۔
فیکٹری میں نہ صرف حملہ آور ڈرونز بلکہ نگرانی اور جعلی ڈکیوئی ڈرونز بھی تیار کیے جا رہے ہیں تاکہ دفاعی نظام کو الجھایا جا سکے۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ اس صنعتی منصوبے کا آغاز روس اور ایران کے درمیان 2022 میں ہونے والے ایک معاہدے کے بعد ہوا، جس کے تحت ایران نے روس کو ڈرون ٹیکنالوجی اور ڈیزائن فراہم کیے جبکہ روس نے اپنی سرزمین پر بڑے پیمانے پر پیداوار کا نظام قائم کیا۔ وقت کے ساتھ ساتھ اس فیکٹری نے اپنی پیداوار میں تیزی سے اضافہ کیا ہے اور اب یہ ہزاروں ڈرونز سالانہ تیار کرنے کی صلاحیت رکھتی ہے۔
ماہرین کے مطابق روس اور ایران کے درمیان یہ تعاون مغربی پابندیوں سے بچنے اور دفاعی ضروریات پوری کرنے کے لیے اہم حکمت عملی بن چکا ہے۔ دونوں ممالک پر عائد اقتصادی پابندیوں کے باوجود یہ شراکت داری مسلسل مضبوط ہو رہی ہے، اور اس نے خطے میں فوجی توازن پر بھی اثرات ڈالے ہیں۔
دفاعی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اس پیش رفت سے ظاہر ہوتا ہے کہ ایران اور روس اپنی دفاعی صنعتوں کو ایک دوسرے کے قریب لا رہے ہیں، جس کے نتیجے میں جدید ڈرون ٹیکنالوجی کی پیداوار میں تیزی آئی ہے۔ تاہم مغربی ممالک اس تعاون کو علاقائی اور عالمی سلامتی کے لیے تشویش ناک قرار دیتے ہیں۔


