پاکستان کی عالمی امن کے لیے مؤثر سفارتکاری کے خلاف بھارت اور اسرائیل کی مبینہ گمراہ کن پروپیگنڈا مہم بے نقاب ہونے لگی۔ مختلف ماہرین اور تجزیہ کاروں نے دعویٰ کیا ہے کہ امریکی نشریاتی ادارے سی بی ایس پر نشر کی جانے والی بعض رپورٹس کے ذریعے ایرانی طیاروں کی پاکستان میں موجودگی سے متعلق من گھڑت تاثر دینے کی کوشش کی گئی۔
رپورٹس کے مطابق پیرامونٹ گلوبل کی ملکیت میں موجود سی بی ایس کے کاروباری روابط بھارتی کمپنی ریلائنز انڈسٹریز سے جوڑے جا رہے ہیں، جبکہ ریلائنس نیٹ ورکس بھارتی کاروباری شخصیت مکیش امبانی کی ملکیت ہیں۔
تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ مکیش امبانی کو بھارتی وزیراعظم نریندرا مودی کے قریبی ساتھیوں میں شمار کیا جاتا ہے، اور حالیہ انتظامی تبدیلیوں کے بعد سی بی ایس پر ان کے اثر و رسوخ میں اضافہ دیکھا گیا ہے۔
ذرائع کے مطابق اسرائیلی وزیراعظم بنجمن نیتن یاہو نے بھی اسی پلیٹ فارم کو استعمال کرتے ہوئے امریکہ اور اسرائیل کے تعلقات میں کشیدگی کا الزام پاکستان پر عائد کیا۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ پاکستان کے بطور ثالث کردار کو متنازع بنانے کے لیے بھارت اور اسرائیل کی جانب سے منظم پروپیگنڈا کیا جا رہا ہے، جس کا مقصد عالمی امن کی کوششوں کو سبوتاژ کرنا ہے۔
تجزیہ کاروں کے مطابق پاکستان کی خطے میں امن و استحکام کے لیے سفارتی کوششیں بھارت کو کھٹک رہی ہیں کیونکہ اپنی انتہاپسند پالیسیوں کے باعث بھارت عالمی سطح پر تنہائی کا شکار ہوتا جا رہا ہے۔
ماہرین نے مزید کہا کہ اسرائیل اور بھارت کا حالیہ طرزِ عمل اس امر کی عکاسی کرتا ہے کہ دونوں ممالک کی پالیسیاں علاقائی استحکام اور عالمی امن کے لیے مسلسل خطرہ بن رہی ہیں۔


