ایک ایرانی قانون ساز نے کہا ہے کہ ملک کی پارلیمنٹ میں جلد اس قانون سازی کا جائزہ لیا جائے گا جس کے تحت آبنائے ہرمز پر ایران کے انتظامی اختیارات اور خودمختاری کو باقاعدہ قانونی شکل دینے کا امکان ہے۔
قانون ساز کے مطابق یہ مجوزہ اقدام اس اسٹریٹجک آبی گزرگاہ پر ایران کے کردار کو مزید واضح اور مضبوط بنانے کی کوشش ہے، جہاں سے عالمی توانائی کی بڑی مقدار کی ترسیل ہوتی ہے۔
انہوں نے کہا کہ پارلیمنٹ میں زیر غور یہ قانون قومی سلامتی، بحری حدود کے تحفظ اور خطے میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کے تناظر میں اہم سمجھا جا رہا ہے۔
رپورٹس کے مطابق اس قانون سازی کا مقصد آبنائے ہرمز کے انتظامی ڈھانچے کو مضبوط کرنا اور اس پر ایران کے قانونی مؤقف کو مزید واضح کرنا ہے۔ ایران اس اہم آبی راستے کو اپنی علاقائی خودمختاری اور سیکیورٹی پالیسی کا حساس حصہ قرار دیتا ہے۔
ماہرین کے مطابق آبنائے ہرمز عالمی توانائی کی ترسیل کے لیے ایک انتہائی اہم گزرگاہ ہے، اور اس پر کسی بھی قسم کی قانونی یا عسکری پیش رفت عالمی منڈیوں، خصوصاً تیل کی قیمتوں اور بحری تجارت پر نمایاں اثر ڈال سکتی ہے۔
سیاسی مبصرین کا کہنا ہے کہ اس طرح کی قانون سازی خطے میں پہلے سے موجود کشیدگی کو مزید پیچیدہ بنا سکتی ہے، جبکہ عالمی طاقتیں اس صورتحال کو انتہائی قریب سے مانیٹر کر رہی ہیں۔


