بھارت میں تعلیمی نظام ایک بار پھر شدید تنقید کی زد میں آ گیا ہے، جہاں بارہویں جماعت کے امتحانات کے لیے متعارف کرایا گیا نیا ڈیجیٹل مارکنگ نظام طلبہ کے لیے مشکلات کا باعث بن گیا۔ مختلف رپورٹس کے مطابق نتائج میں بے ضابطگیوں اور مارکنگ کی غلطیوں پر طلبہ اور والدین کی جانب سے شدید احتجاج سامنے آیا ہے۔
معروف عالمی جریدے دی گارڈین کی رپورٹ کے مطابق، امتحانی نتائج کے بعد چار لاکھ سے زائد طلبہ نے تقریباً 11 لاکھ جوابی کاپیوں کی نقول طلب کیں تاکہ اپنے نمبروں کی جانچ کر سکیں۔ متعدد طلبہ نے شکایت کی کہ انہیں موصول ہونے والی اسکین شدہ جوابی کاپیاں نامکمل تھیں یا ان کے صفحات غائب تھے۔
رپورٹ کے مطابق کئی طلبہ نے غلط مارکنگ، دھندلے اسکینز اور بعض صورتوں میں دوسرے طلبہ کی جوابی کاپیاں موصول ہونے کی شکایات بھی درج کرائیں۔ ان بے ضابطگیوں نے امتحانی نظام کی شفافیت اور انتظامی صلاحیت پر سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔
متاثرہ طلبہ کے والدین کا کہنا ہے کہ ایسی غفلت ہزاروں طلبہ کے تعلیمی مستقبل، ذہنی صحت اور کیریئر پر منفی اثرات مرتب کر سکتی ہے۔ ایک طالبہ کی والدہ نے اس صورتحال کو نوجوانوں کے مستقبل سے کھیلنے کے مترادف قرار دیا۔
تعلیمی ماہرین کے مطابق بھارت میں گزشتہ چند برسوں کے دوران پیپر لیکس، امتحانی بے ضابطگیوں اور مارکنگ اسکینڈلز کے متعدد واقعات سامنے آ چکے ہیں، جس کے باعث تعلیمی نظام پر اعتماد متاثر ہوا ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ تعلیمی شفافیت اور احتساب کے فقدان نے عالمی سطح پر بھی خدشات کو جنم دیا ہے۔
مبصرین کے مطابق بھارتی حکومت کو تعلیمی نظام میں اصلاحات اور شفافیت کو یقینی بنانے کے لیے فوری اور مؤثر اقدامات کرنا ہوں گے تاکہ طلبہ کے مستقبل کو محفوظ بنایا جا سکے۔


