ایرانی پاسدارانِ انقلاب کے سربراہ کے مشیر بریگیڈیئر جنرل علی فدوی نے کہا ہے کہ ایران ایک "بڑی فتح” کے دہانے پر کھڑا ہے جو مغربی طاقتوں کی قائم کردہ علاقائی اور عالمی مساوات کو تبدیل کر دے گی۔
ان کے مطابق ایرانی عوام اور مزاحمتی محاذ نے امریکا اور اس کے اتحادیوں کے مقابلے میں ثابت قدمی کا مظاہرہ کرتے ہوئے دنیا کی نام نہاد سپر پاور کو کمزور کر دیا ہے۔
بریگیڈیئر جنرل علی فدوی نے جمعرات کے روز تہران کے شہر ری میں واقع حضرت سید عبدالعظیم حسنیؒ کے مزار پر پاسدارانِ انقلاب کے سابق کمانڈر شہید جنرل حسین سلامی کی پہلی برسی کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ایرانی عوام کئی ماہ سے امریکا کے ساتھ ایک محاذ آرائی کا سامنا کر رہے ہیں۔ انہوں نے اس استقامت کو ایران اور مزاحمتی محاذ، بشمول لبنان، فلسطین، یمن اور عراق کے لیے باعثِ فخر قرار دیا۔
انہوں نے کہا کہ مزاحمتی محاذ "فتح کے حصول تک” اپنا راستہ جاری رکھے گا اور موجودہ حالات اس بات کا ثبوت ہیں کہ خطے میں امریکی اور اسرائیلی منصوبوں کے مقابلے میں مزاحمت کی حکمت عملی درست ثابت ہوئی ہے۔
شہید جنرل حسین سلامی کے بارے میں گفتگو کرتے ہوئے علی فدوی نے انہیں ایک منفرد شخصیت قرار دیا جو پاسدارانِ انقلاب کے مختلف عہدوں اور ذمہ داریوں پر کامیابی سے فائز رہے۔
انہوں نے انقلاب کے ابتدائی برسوں میں عسکری کارروائیوں میں حصہ لینے سے لے کر پاسدارانِ انقلاب کے سربراہ بننے تک ہر مرحلے پر نمایاں خدمات انجام دیں۔
فدوی نے کہا کہ حسین سلامی نے علمی برتری اور عملی میدان دونوں میں اپنی صلاحیتوں کا لوہا منوایا۔ وہ مختلف عسکری اور تنظیمی مناصب پر خدمات انجام دینے کے بعد پاسدارانِ انقلاب کے اعلیٰ ترین عہدے تک پہنچے۔
انہوں نے مزید کہا کہ سلامی امریکا کے مقابلے میں اپنے سخت مؤقف، مضبوط قیادت اور غیرمعمولی ذاتی خصوصیات کے باعث معروف تھے۔
انہوں نے مزید کہا کہ حسین سلامی ان رہنماؤں میں شامل تھے جنہوں نے پاسدارانِ انقلاب اور اسلامی انقلاب کی تاریخ میں گہرے نقوش چھوڑے۔ ان کی زندگی عزم، وفاداری اور قربانی کی ایک مثال ہے، جبکہ ان کی اور دیگر شہدائے انقلاب کی قربانیاں آئندہ نسلوں کے لیے مشعلِ راہ بنی رہیں گی۔


