امریکااور ایران کے درمیان متوقع مفاہمت کے حوالے سے جن تجاویز پر جنیوا میں دستخط ہوسکتےہیں ان کی تفصیلات ایران کی نیم سرکاری خبر رساں ادارےمہر نیوز ایجنسی نے رپورٹ کیا ہے، رپورٹ کے نقاط درج زیل ہیں
لبنان سمیت تمام محاذوں پر جنگ کا مستقل اور فوری خاتمہ۔
امریکا کا ایران کے داخلی معاملات میں عدم مداخلت اور ایران کی خودمختاری کے احترام کا عہد۔
30 دن کے اندر بحری ناکہ بندی کا مکمل خاتمہ۔
امریکہ کا ایران کے اطراف سے اپنی افواج واپس بلانے کا عہد۔
ایران کے انتظامات کے تحت 30 دن کے اندر آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھولنا۔
تیل، پیٹروکیمیکل مصنوعات اور ان سے متعلقہ مصنوعات کی فروخت پر عائد پابندیوں کی معطلی، اور ایران کو اپنے مالی وسائل تک مکمل رسائی دینا۔
امریکا اور اس کے اتحادیوں کی جانب سے ایران کی تعمیرِ نو کے لیے کم از کم 300 ارب ڈالر کے منصوبے پیش کرنے کی ضرورت۔
جوہری معاملات اور امریکی بنیادی و ثانوی پابندیوں کے مکمل خاتمے کے ساتھ ساتھ اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل اور آئی اے ای اے کے بورڈ آف گورنینس کی قراردادوں کے خاتمے پر مبنی حتمی معاہدے تک پہنچنے کے لیے 60 روزہ مذاکرات۔
جوہری عدم پھیلاو کے معاہدے کے تحت ایران کے اس عزم کی تجدید کہ وہ جوہری ہتھیار تیار نہیں کرے گا۔
مذاکراتی مدت کے دوران امریکہ نے خطے میں مزید فوجی دستے نہ بھیجنے اور نئی پابندیاں عائد نہ کرنے کا عہد کیا ہے۔
60 روزہ حتمی مذاکراتی مدت کے دوران ایران کے منجمد فنڈز میں سے 24 ارب ڈالر جاری کیے جائیں گے، جن میں سے نصف رقم مذاکرات شروع ہونے سے پہلے ایران کو فراہم کی جائے گی۔
معاہدے پر عمل درآمد کے لیے ایک نگرانی اور نگران نظام قائم کیا جائے گا۔حتمی معاہدے کی توثیق سلامتی کونسل کی قرارداد کے ذریعے کی جائے گی۔


