اسرائیلی حملوں نے ایران-امریکا مفاہمتی یادداشت کو خطرے میں ڈال دیا، تہران کا سخت ردعمل

Date:

ایران اور امریکا کے درمیان حالیہ مفاہمتی یادداشت کے باوجود لبنان پر اسرائیلی حملوں کے تسلسل نے خطے میں ایک نئی کشیدگی کو جنم دے دیا ہے۔

ایرانی سیاسی اور سفارتی حلقوں کا کہنا ہے کہ معاہدے کی بنیادی شقوں میں تمام محاذوں پر فوجی کارروائیوں کے خاتمے کی ضمانت شامل تھی، تاہم جنوبی لبنان پر جاری اسرائیلی حملے اس معاہدے کی کھلی خلاف ورزی تصور کیے جا رہے ہیں۔

ایرانی پارلیمنٹ کی قومی سلامتی کمیٹی کے ارکان اور بین الاقوامی امور کے ماہرین نے امریکا کو معاہدے کا ضامن قرار دیتے ہوئے مطالبہ کیا ہے کہ واشنگٹن اسرائیل کو فوری طور پر جنگ بندی کا پابند بنائے، بصورت دیگر مفاہمتی عمل شدید متاثر ہو سکتا ہے۔

ایرانی رکن پارلیمنٹ حجت الاسلام مجتبی ذوالنوری نے کہا ہے کہ اگر اسرائیل معاہدے کی خلاف ورزی جاری رکھتا ہے تو صرف بیانات کافی نہیں ہوں گے بلکہ ایران کو عملی اور فیصلہ کن جواب دینا ہوگا۔ ان کے مطابق لبنان پر حملوں میں ملوث اسرائیلی فوجی مراکز کو نشانہ بنایا جا سکتا ہے تاکہ دشمن کو معاہدے کی پابندی پر مجبور کیا جا سکے۔

دوسری جانب قومی سلامتی کمیٹی کے رکن اسماعیل کوثری نے خبردار کیا ہے کہ اگر امریکا اسرائیل کو روکنے میں ناکام رہا تو ایران آبنائے ہرمز میں آمدورفت محدود کرنے سمیت دیگر مؤثر اقدامات پر غور کر سکتا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ایران کسی صورت یہ قبول نہیں کرے گا کہ ایک بار پھر معاہدے کی خلاف ورزیوں کو نظرانداز کیا جائے۔

بین الاقوامی امور کے ماہر سید رضا صدرالحسینی نے کہا کہ لبنان میں جاری اسرائیلی کارروائیاں اس بات کا ثبوت ہیں کہ امریکا اسرائیل پر اپنا اثر و رسوخ استعمال کرنے میں ناکام رہا ہے۔ ان کے مطابق ایران مفاہمتی عمل کو مؤخر کرنے، آبنائے ہرمز پر دباؤ بڑھانے اور ضرورت پڑنے پر اسرائیل کے حساس مقامات کو نشانہ بنانے جیسے آپشنز پر غور کر سکتا ہے۔

ادھر ایرانی پارلیمنٹ کے رکن فداحسین مالکی نے کہا کہ اسرائیل شروع سے ہی ایران اور امریکا کے درمیان مفاہمت کا مخالف رہا ہے اور لبنان پر حملے اسی حکمت عملی کا حصہ ہیں۔ انہوں نے زور دیا کہ امریکا اور صدر ڈونلڈ ٹرمپ پر یہ ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ وہ اسرائیل کو مزید حملوں سے روکیں۔

ایرانی حکام کے مطابق اگر سفارتی کوششیں کامیاب نہ ہوئیں تو تہران اپنے مفادات کے تحفظ کے لیے دیگر مناسب اقدامات کا حق محفوظ رکھتا ہے، جبکہ خطے میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کے باعث عالمی برادری کی نظریں اب واشنگٹن اور تل ابیب کے آئندہ اقدامات پر مرکوز ہیں۔

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here

Share post:

Subscribe

spot_imgspot_img

Popular

More like this
Related

پیٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں کمی کے باوجود تقریباً 29 فیصد حصہ ٹیکسوں پر مشتمل

پیٹرول اور ڈیزل کی حالیہ قیمتوں میں نمایاں کمی...

اسلام آباد ڈکلریشن کے تحت امریکاایران تکنیکی مذاکرات کل سوئٹزرلینڈ میں ہوں گے

اسلام آباد مفاہمتی یادداشت کے تحت امریکا اور ایران...

ایران-امریکا معاہدے کی راہ میں چار بڑے چیلنجزز کون کون سے ہیں؟

العربیہ اردو کے مطابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اگرچہ...