آزاد کشمیر بحران پر بیان دیانتدارانہ تھا، میرے الفاظ کو توڑ مروڑ کر پیش کیا جا رہا ہے: خواجہ آصف

Date:

وزیر دفاع خواجہ محمد آصف نے آزاد جموں و کشمیر میں پیدا ہونے والی صورتحال سے متعلق اپنے حالیہ بیانات کا دفاع کرتے ہوئے کہا ہے کہ ان کے ریمارکس صاف گوئی اور دیانتداری پر مبنی تھے، تاہم خفیہ اور منفی ایجنڈا رکھنے والے عناصر ان کے بیان کو توڑ مروڑ کر پیش کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔

اسلام آباد سے جاری اپنے بیان میں وزیر دفاع نے کہا کہ کوئی بھی قوت انہیں کشمیر کو پاکستان سے یا پاکستان کو کشمیر سے جدا نہیں کرسکتی۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان کا کشمیر سے تعلق تاریخی، سیاسی اور قربانیوں پر مبنی ہے۔

خواجہ آصف نے کہا کہ اکتوبر 1947ء میں ہجرت کرکے پاکستان آنے والے کشمیریوں کی قربانیاں تاریخ کا حصہ ہیں، جبکہ مقبوضہ کشمیر میں بھارتی قبضے کے خلاف جاری جدوجہد بھی گزشتہ کئی دہائیوں سے قربانیوں، شہادتوں اور قید و بند کی طویل داستان پر مشتمل ہے۔

وزیر دفاع نے کہا کہ پاکستان کا کشمیر کاز سے تعلق ہمارے شہداء کے خون سے ثابت ہے، جو مختلف جنگوں میں ملک کے دفاع اور کشمیر کے معاملے پر قربانیاں دے چکے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان کا اصولی مؤقف اقوام متحدہ کی قراردادوں، کشمیری عوام کے حق خودارادیت اور ریفرنڈم کے اصول پر مبنی ہے۔

انہوں نے کہا کہ آزاد کشمیر سے پاکستان مخالف یا بیرونی منفی ایجنڈے سے متاثر آوازوں کا جواب دینا ضروری ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ کشمیر کے معاملے کو صرف محدود تعریفوں تک نہیں دیکھا جا سکتا بلکہ اس کی بنیاد طویل جدوجہد اور قربانیوں پر ہے۔

خواجہ آصف نے کہا کہ کچھ کشمیری خاندان وہ ہیں جنہوں نے 1947ء میں ہجرت کی قربانیاں دیں، جبکہ کچھ آج بھی مقبوضہ کشمیر میں مشکلات، قید اور قربانیوں کا سامنا کر رہے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ آزاد کشمیر کے عوام، جو پاکستان کے سپاہیوں کی حفاظت میں کئی دہائیوں سے امن کے ماحول میں زندگی گزار رہے ہیں، انہیں مقبوضہ کشمیر کے عوام اور مہاجرین کی قربانیوں کو بھی تسلیم کرنا چاہیے۔

وزیر دفاع نے مزید کہا کہ مقبوضہ کشمیر کے عوام اور مہاجرین کی قربانیوں کو کم تر سمجھنا کشمیر کے بنیادی مقصد کے خلاف ہے۔ ان کے مطابق "کشمیریت” کی پہچان صرف پیدائشی نسبت سے نہیں بلکہ اس جدوجہد، قربانیوں اور تاریخی کردار سے بنتی ہے جو تقریباً آٹھ دہائیوں سے جاری ہے۔

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here

Share post:

Subscribe

spot_imgspot_img

Popular

More like this
Related