امریکی نائب صدر جے ڈی وینس سوئٹزرلینڈ سے امریکا واپس روانہ ہوگئے۔روانگی سے قبل ایئرپورٹ پر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ سوئٹزرلینڈ میں گزارے گئے 36 گھنٹے نہایت نتیجہ خیز رہے اور ان مذاکرات کے نتیجے میں مشرق وسطیٰ کے لیے ایک تبدیل شدہ اور مختلف فریم ورک کی بنیاد رکھی گئی ہے، جس پر اب مزید کام جاری رکھنے کی ضرورت ہے۔
جے ڈی وینس کے مطابق ایک ایسا طریقہ کار وضع کر لیا گیا ہے جس سے آبنائے ہرمز کھلی رہے گی اور خطے میں ایندھن کی قیمتوں میں کمی کا رجحان برقرار رہے گا۔ انہوں نے کہا کہ علاقائی جنگ بندی کو یقینی بنانے کے لیے بھی ایک مؤثر نظام تشکیل دیا گیا ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ امریکا اپنے اتحادیوں، اسرائیل اور خلیجی ممالک کے ساتھ مل کر جنگ بندی کے استحکام کے لیے کام کر رہا ہے۔ ان کے مطابق ایران نے طویل عرصے بعد ہتھیاروں اور جوہری پروگرام سے متعلق معائنہ کاروں کو رسائی دینے پر آمادگی ظاہر کی ہے، جو ایک اہم پیش رفت ہے، تاہم اصل صورتحال کا انحصار اس بات پر ہوگا کہ معائنہ مکمل طور پر ہونے دیا جاتا ہے یا نہیں۔
نائب امریکی صدر نے کہا کہ امریکا اس بات کو یقینی بنائے گا کہ ایران کبھی بھی جوہری ہتھیار حاصل نہ کر سکے، اور ایران کے ساتھ تکنیکی مذاکرات میں مسلسل پیش رفت جاری ہے۔


