اٹلی کے وزیر خارجہ انتونیو تاجانی نے اپنے ایرانی ہم منصب عباس عراقچی سے ٹیلیفونک رابطہ کرکے واضح کیا ہے کہ اٹلی ایران کے خلاف کسی بھی فوجی کارروائی میں شریک نہیں ہوا اور نہ ہی اس نے اپنی سرزمین یا فوجی اڈے ایسی کارروائیوں کے لیے استعمال ہونے کی اجازت دی۔
سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس پر جاری اپنے بیان میں انتونیو تاجانی نے بتایا کہ ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی سے گفتگو کے دوران انہوں نے دو ٹوک مؤقف اختیار کرتے ہوئے کہا کہ اٹلی نہ تو ایران کے خلاف عسکری کارروائیوں میں شامل رہا اور نہ ہی ایران پر حملوں کے لیے اپنے فوجی اڈے استعمال کرنے کی اجازت دی۔
اطالوی وزیر خارجہ نے اس موقع پر آبنائے ہرمز کو مکمل طور پر دوبارہ کھولنے کی ضرورت پر بھی زور دیا تاکہ وہاں رکے ہوئے تمام اطالوی تجارتی جہازوں کی محفوظ اور بلا تعطل آمدورفت یقینی بنائی جا سکے۔
یہ وضاحت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب اس سے قبل امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ سے ملاقات کے دوران نیٹو کے سیکرٹری جنرل مارک روٹے نے دعویٰ کیا تھا کہ ایران کے خلاف جنگ کے دوران یورپی اتحادی امریکا کے ساتھ تھے۔ ان کے مطابق آپریشن "ایپک فیوری” کے دوران اٹلی سے تقریباً 500 امریکی جنگی طیاروں نے پروازیں کیں، جبکہ رومانیہ نے بھی امریکی افواج کو اپنے ہوائی اڈوں پر سہولیات فراہم کیں۔
اطالوی وزیر خارجہ کے حالیہ بیان کو ان دعوؤں کے تناظر میں اٹلی کے سرکاری مؤقف کی وضاحت قرار دیا جا رہا ہے، جس میں روم نے ایران کے خلاف کسی بھی براہِ راست فوجی کردار کی تردید کی ہے۔


