عمان نے یورپی حکام کو آگاہ کیا ہے کہ مستقبل میں آبنائے ہرمز سے گزرنے والے بحری جہازوں سے مخصوص خدمات کے عوض فیس وصول کی جا سکتی ہے، کیونکہ موجودہ صورتحال کے بعد آبنائے ہرمز کو جنگ سے پہلے والی حالت میں واپس لانا ممکن نہیں رہا۔
عمانی حکام کے مطابق آبنائے ہرمز میں بحری آمدورفت کے لیے بین الاقوامی سمندری قوانین کی مکمل پاسداری جاری رکھی جائے گی، تاہم آبی گزرگاہ کو آلودگی سے پاک رکھنے، بحری راستوں کی نگرانی اور جہازوں کو محفوظ راہداری فراہم کرنے جیسی خدمات کے اخراجات پورے کرنے کے لیے فیس عائد کرنے پر غور کیا جا رہا ہے۔
حکام کا کہنا تھا کہ اس اقدام کا مقصد بین الاقوامی بحری تجارت میں رکاوٹ ڈالنا نہیں بلکہ آبنائے ہرمز میں نیویگیشن، ماحول کے تحفظ اور سکیورٹی سے متعلق خدمات کو مؤثر انداز میں برقرار رکھنا ہے۔
ادھر قطر کی جانب سے بھی آبنائے ہرمز سے گزرنے والے بحری جہازوں پر ممکنہ ٹول یا فیس کے حوالے سے ملے جلے اشارے سامنے آئے ہیں، تاہم دوحہ کی جانب سے اس بارے میں کوئی حتمی اعلان نہیں کیا گیا۔
تجزیہ کاروں کے مطابق اگر آبنائے ہرمز سے گزرنے والے تجارتی جہازوں پر فیس یا ٹول نافذ کیا جاتا ہے تو اس کے عالمی بحری تجارت، تیل کی ترسیل کے اخراجات اور بین الاقوامی منڈیوں پر نمایاں اثرات مرتب ہو سکتے ہیں، کیونکہ دنیا کی بڑی مقدار میں خام تیل اور مائع قدرتی گیس اسی اہم آبی گزرگاہ کے ذریعے عالمی منڈیوں تک پہنچتی ہے۔


