ایران کی پاسدارانِ انقلاب نے دعویٰ کیا ہے کہ اس کی بحری اور فضائی افواج نے جزیرہ سیریک پر ہونے والے امریکی حملے کو ناکام بنا دیا اور حملہ آور امریکی فورسز کو پسپا ہونے پر مجبور کر دیا۔
پاسدارانِ انقلاب کی جانب سے ہفتہ کی صبح جاری بیان میں کہا گیا کہ امریکی افواج نے جزیرہ سیریک کو نشانہ بنا کر ایران کی خودمختاری اور علاقائی سالمیت کی کھلی خلاف ورزی کی، تاہم پاسدارانِ انقلاب کی بحری اور فضائی فورسز نے بروقت کارروائی کرتے ہوئے اس حملے کو ناکام بنا دیا۔
بیان میں کہا گیا کہ ایران کی سرزمین اور سمندری حدود ملک کی "سرخ لکیر” ہیں، جن کی خلاف ورزی کسی صورت برداشت نہیں کی جائے گی۔
پاسدارانِ انقلاب نے خبردار کیا کہ امریکی جارحیت کا یہ اقدام بغیر جواب کے نہیں رہے گا اور اس خلاف ورزی کا ردعمل ایران اپنی مرضی کے وقت، مقام اور انداز میں "تیز، فیصلہ کن اور ہلا دینے والا” دے گا۔
بیان میں مزید کہا گیا کہ "عالمی استکبار یہ جان لے کہ اگر اس نے دوبارہ کسی بھی قسم کی حماقت کی تو اسے ایسے جواب کا سامنا کرنا پڑے گا جو خطے میں اس کے تمام عزائم کو خاک میں ملا دے گا۔”
دوسری جانب امریکی سینٹرل کمانڈ (سینٹکام) نے تصدیق کی ہے کہ امریکی افواج نے ایران کے خلاف فضائی کارروائی کی۔ امریکی حکام کے مطابق یہ حملے آبنائے ہرمز میں ایک تجارتی بحری جہاز پر ہونے والے مبینہ ایرانی حملے کے جواب میں کیے گئے۔
واضح رہے کہ ایران اور امریکا کی جانب سے حالیہ کشیدگی کے دوران ایک دوسرے کے خلاف متعدد دعوے کیے جا رہے ہیں، تاہم دونوں فریقین کے بیانات کی آزاد ذرائع سے مکمل تصدیق تاحال نہیں ہو سکی۔


