لبنان اور اسرائیل کے درمیان کئی ہفتوں سے جاری کشیدگی اور سرحدی جھڑپوں کے بعد امریکا کی ثالثی میں جنگ بندی معاہدے پر دستخط کر دیے گئے ہیں،
امریکی حکام کے مطابق دونوں فریقوں نے امریکی ثالثی میں طے پانے والے جنگ بندی معاہدے کو قبول کرتے ہوئے اس پر دستخط کیے، جس کا مقصد سرحدی علاقوں میں فوری طور پر جنگی کارروائیوں کا خاتمہ، شہری آبادی کا تحفظ اور کشیدگی میں کمی لانا ہے۔
معاہدے کے تحت لبنان اور اسرائیل دونوں فوری طور پر تمام جارحانہ فوجی کارروائیاں روکیں گے، جبکہ سرحدی علاقوں میں جنگ بندی کی نگرانی کے لیے طے شدہ طریقہ کار پر عمل درآمد کیا جائے گا۔
ذرائع کے مطابق معاہدے میں ایسے اقدامات بھی شامل ہیں جن کے ذریعے مستقبل میں کسی بھی خلاف ورزی کو روکنے اور تنازعات کو سفارتی ذرائع سے حل کرنے کی کوشش کی جائے گی۔
امریکی انتظامیہ نے معاہدے کو مشرقِ وسطیٰ میں امن کے لیے ایک اہم پیش رفت قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ جنگ بندی کے مکمل نفاذ کو یقینی بنانے کے لیے متعلقہ فریقوں سے مسلسل رابطہ رکھا جائے گا۔
ادھر لبنانی حکام نے معاہدے کا خیر مقدم کرتے ہوئے امید ظاہر کی ہے کہ اس سے جنوبی لبنان میں امن بحال ہوگا اور متاثرہ شہریوں کی اپنے گھروں کو واپسی کی راہ ہموار ہوگی۔ اسرائیلی حکام نے بھی جنگ بندی پر عمل درآمد کے عزم کا اظہار کیا ہے، تاہم واضح کیا ہے کہ کسی بھی ممکنہ خلاف ورزی کی صورت میں اپنے دفاع کا حق محفوظ رکھتے ہیں۔


