روسی میڈیا نے دعویٰ کیا ہے کہ امریکا نے ایران کے خلاف اپنی فوجی کارروائیوں کے آخری مرحلے میں اردن میں واقع موفق السلطی فوجی اڈے کو علاقائی آپریشنل مرکز کے طور پر استعمال کیا۔
مہر خبررساں ایجنسی کے مطابق، روسی خبر رساں ادارے اسپوٹنک نے باخبر ذرائع کے حوالے سے رپورٹ کیا ہے کہ ایران کے خلاف امریکی فوجی آپریشنز کے دوران موفق السلطی ایئر بیس امریکی افواج کا اہم علاقائی مرکز بن گیا تھا، جہاں سے کارروائیوں کی نگرانی اور معاونت کی گئی۔
رپورٹ میں ذرائع کے حوالے سے بتایا گیا ہے کہ امریکا کے پاس اس اڈے کے استعمال کے علاوہ کوئی مؤثر متبادل موجود نہیں تھا، کیونکہ خلیج فارس میں اس کے اہم اتحادی سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات نے مبینہ طور پر اپنی فضائی حدود کو امریکی فوجی کارروائیوں کے لیے استعمال کرنے کی اجازت نہیں دی۔
ذرائع کا مزید کہنا ہے کہ ایران نے امریکا اور اسرائیل کے حملوں کے جواب میں خطے میں قائم امریکی فوجی اڈوں کو میزائلوں اور ڈرون حملوں کا نشانہ بنایا، جس کے باعث متعدد امریکی تنصیبات کی آپریشنل صلاحیت متاثر ہوئی۔
واضح رہے کہ اس حوالے سے امریکا یا اردن کی جانب سے روسی میڈیا کے اس دعوے پر تاحال کوئی باضابطہ ردعمل سامنے نہیں آیا، جبکہ ان دعوؤں کی آزاد ذرائع سے تصدیق بھی نہیں ہو سکی ہے۔


