ایران کے ایک مسافر بردار طیارے نے گزشتہ روز یمن کے دارالحکومت صنعا کے بین الاقوامی ہوائی اڈے پر لینڈ کر کے ایک ایسے فضائی محاصرے کو عملی طور پر چیلنج کر دیا جو یمن کی حوثی حکومت کے مطابق تقریباً ایک دہائی سے سعودی عرب اور امریکہ کی سرپرستی میں نافذ تھا۔ اس پیش رفت کو مشرق وسطیٰ کی حالیہ اہم ترین سفارتی و عسکری پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے، تاہم ایران کی داخلی خبروں کے شور میں یہ خبر نسبتاً کم زیر بحث رہی۔
حوثی تحریک (انصار اللہ) کے فوجی ترجمان یحییٰ سریع کے مطابق ایرانی شہری طیارہ دو سو سے زائد یمنی مسافروں، زخمیوں اور مریضوں کو لے کر صنعا پہنچ رہا تھا، جب سعودی جنگی طیاروں نے یمنی فضائی حدود میں داخل ہو کر اس کی لینڈنگ روکنے کی کوشش کی۔ ترجمان کا دعویٰ ہے کہ یمنی فضائی دفاع نے کارروائی کرتے ہوئے سعودی طیاروں کو علاقے سے نکلنے پر مجبور کر دیا، جس کے بعد ایرانی طیارہ بحفاظت صنعا ایئرپورٹ پر اتر گیا۔
حوثیوں نے اس واقعے کو "سعودی۔امریکی محاصرے کو توڑنے کا تاریخی لمحہ” قرار دیتے ہوئے اعلان کیا کہ صنعا اور تہران کے درمیان پروازیں آئندہ بھی جاری رہیں گی۔ بیان میں ایران کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا گیا کہ تہران نے محاصرے کے خاتمے کے لیے عملی قدم اٹھایا ہے۔
دوسری جانب حوثی قیادت نے سعودی عرب کو سخت انتباہ دیتے ہوئے کہا ہے کہ اگر آئندہ کسی بھی ایرانی یا یمنی شہری پرواز کو روکنے کی کوشش کی گئی تو اس کا جواب سعودی عرب کے ہوائی اڈوں اور اہم تنصیبات کو نشانہ بنا کر دیا جا سکتا ہے۔
رپورٹس کے مطابق ایرانی طیارہ واپسی پر حوثی وفد کو بھی تہران لے گیا، جہاں انہوں نے ایرانی سپریم لیڈر کی آخری رسومات میں شرکت کی۔ اسی طیارے کے ذریعے زخمی اور بیمار یمنی شہریوں کی منتقلی بھی کی گئی، جسے حوثی قیادت نے انسانی بنیادوں پر اہم اقدام قرار دیا۔
یاد رہے کہ 2015 میں یمن کی جنگ شروع ہونے کے بعد صنعا بین الاقوامی ہوائی اڈہ طویل عرصے تک سخت پابندیوں کا شکار رہا، جس کے باعث لاکھوں یمنی شہری بیرون ملک سفر اور طبی علاج سے محروم رہے۔ اگرچہ مختلف ادوار میں محدود انسانی پروازوں کی اجازت دی گئی، تاہم ایران اور صنعا کے درمیان براہِ راست فضائی رابطہ تقریباً معطل رہا۔
تجزیہ کاروں کے مطابق ایرانی طیارے کی یہ پرواز صرف ایک فضائی سفر نہیں بلکہ خطے میں طاقت کے توازن، یمن کے محاصرے، ایران کے بڑھتے ہوئے علاقائی کردار اور سعودی عرب کے ساتھ مستقبل کی کشیدگی کے تناظر میں ایک اہم سیاسی و سفارتی پیغام بھی سمجھی جا رہی ہے۔ اگر تہران اور صنعا کے درمیان یہ فضائی رابطہ مستقل بنیادوں پر برقرار رہتا ہے تو یہ یمن کی جنگ اور علاقائی سفارت کاری میں ایک نئے مرحلے کا آغاز ثابت ہو سکتا ہے۔


