توانائی کے شعبے میں پاکستان کے لیے ایک اہم پیش رفت سامنے آئی ہے۔ اطلاعات کے مطابق کویت اور سعودی عرب پاکستان میں اسٹریٹجک آئل ریزروز قائم کرنے کے منصوبے پر سرگرمی سے غور کر رہے ہیں۔
اگر یہ منصوبہ عملی شکل اختیار کر لیتا ہے تو اس سے نہ صرف پاکستان کی توانائی کی سلامتی میں نمایاں اضافہ ہوگا بلکہ تیل کی سپلائی میں ممکنہ رکاوٹوں اور عالمی منڈی میں قیمتوں کے اتار چڑھاؤ سے نمٹنے میں بھی مدد ملے گی۔
ذرائع کے مطابق مجوزہ منصوبے کے تحت پاکستان میں بڑے پیمانے پر خام تیل ذخیرہ کرنے کے لیے جدید اور محفوظ ذخیرہ گاہیں تعمیر کی جائیں گی، جہاں لاکھوں بیرل تیل محفوظ رکھا جا سکے گا۔
ان ذخائر کا مقصد ہنگامی حالات، جنگی صورتحال، عالمی سپلائی چین میں خلل یا تیل کی شدید قلت کی صورت میں ملکی ضروریات کو پورا کرنا ہوگا۔
توانائی کے ماہرین کا کہنا ہے کہ دنیا کے کئی ممالک اپنی توانائی کی حفاظت کو یقینی بنانے کے لیے اسٹریٹجک آئل ذخائر رکھتے ہیں، تاہم پاکستان کے پاس اس وقت محدود ذخیرہ کرنے کی صلاحیت موجود ہے۔
اس منصوبے کی تکمیل سے ملک کو کئی ماہ تک ایندھن کی ضروریات پوری کرنے کی اضافی صلاحیت حاصل ہو سکتی ہے، جبکہ درآمدی دباؤ اور قیمتوں میں اچانک اضافے کے اثرات بھی کسی حد تک کم کیے جا سکیں گے۔
ماہرین کے مطابق اگر سعودی عرب اور کویت اس منصوبے میں سرمایہ کاری کرتے ہیں تو یہ پاکستان کے توانائی کے بنیادی ڈھانچے میں ایک بڑی غیر ملکی سرمایہ کاری ثابت ہوگی۔
اس کے ساتھ ساتھ بندرگاہوں، آئل ٹرمینلز، پائپ لائنز اور ذخیرہ کرنے کی جدید سہولیات کی تعمیر سے روزگار کے نئے مواقع بھی پیدا ہوں گے اور ملکی معیشت کو تقویت ملے گی۔
تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ پاکستان کا جغرافیائی محل وقوع اسے مشرق وسطیٰ، وسطی ایشیا اور جنوبی ایشیا کے درمیان ایک اہم توانائی راہداری بناتا ہے۔ اسٹریٹجک آئل ذخائر کا قیام نہ صرف پاکستان بلکہ پورے خطے میں توانائی کے شعبے میں تعاون کو فروغ دے سکتا ہے۔
تاہم، اب تک کویت، سعودی عرب یا حکومتِ پاکستان کی جانب سے اس منصوبے کے حوالے سے باضابطہ تفصیلات یا حتمی معاہدے کا اعلان نہیں کیا گیا۔
اس لیے اس خبر کو ابتدائی منصوبہ بندی کے تناظر میں دیکھا جا رہا ہے، اور منصوبے کی حتمی نوعیت، سرمایہ کاری کے حجم اور عمل درآمد کے بارے میں مزید معلومات سرکاری سطح پر سامنے آنا باقی ہیں۔


