ایران کی پاسداران انقلاب نے اعلان کیا ہے کہ آج علی الصبح طلوعِ فجر کے وقت کویت اور بحرین میں واقع امریکی فوجی اڈوں کے خلاف میزائل اور ڈرون حملے کیے گئے، جن میں ان اڈوں کے بنیادی ڈھانچے اور اہم فوجی تنصیبات کو نشانہ بنایا گیا۔
بیان کے مطابق امریکی حملوں کے جواب میں پہلے مرحلے کے دوران پاسداران انقلاب کی بحری اور فضائی افواج نے مشترکہ آپریشن کرتے ہوئے میزائلوں اور ڈرونز کے ذریعے کویت میں عرفیجان اور علی السالم جبکہ بحرین میں الجفیر اور شیخ عیسیٰ کے امریکی فوجی اڈوں کو نشانہ بنایا۔
رپورٹس کے مطابق کویت میں متعدد شدید دھماکوں کی آوازیں سنی گئیں، جبکہ کویتی وزارت دفاع نے اعلان کیا ہے کہ ملک کا فضائی دفاعی نظام میزائل اور ڈرون حملوں کا مقابلہ کر رہا ہے۔
پاسداران کا دعویٰ ہے کہ ان حملوں میں ان اڈوں کے بنیادی ڈھانچے اور اہم فوجی تنصیبات کو تباہ کر دیا گیا۔ بیان کے مطابق یہ کارروائی امریکہ کی جانب سے ایران پر حملوں کے تقریباً ایک گھنٹے بعد کی گئی۔
پاسداران انقلاب نے اپنے بیان میں امریکہ کو سخت الفاظ میں متنبہ کرتے ہوئے کہا کہ اگر ایران کے خلاف دوبارہ کسی قسم کی فوجی جارحیت کی گئی تو ایران کا آئندہ جواب اس سے کہیں زیادہ شدید ہوگا اور خطے میں موجود دیگر امریکی فوجی اڈے بھی اس کے دائرۂ کار میں آئیں گے۔
پاسداران انقلاب کی جانب سے جاری بیان میں شہید امام سید علی خامنہ ای کی ایران اور عراق میں ہونے والی عظیم الشان الوداعی رسومات کا حوالہ دیتے ہوئے کہا گیا کہ عوام نے بے مثال شرکت کے ذریعے ولایت الٰہی کی عظمت، عوام اور ولایت اسلامی کے درمیان گہرے تعلق، اور مسلمانوں کے ولیِ امر پر حملے کی بھاری قیمت کا واضح پیغام دنیا تک پہنچایا۔
بیان میں کہا گیا کہ ایران اور بالخصوص عراق میں شدید گرمی کے باوجود تقریباً 23 گھنٹے تک جاری رہنے والی تاریخی تشییع نے عالمی طاقتوں کو خوفزدہ کر دیا، جس کے نتیجے میں امریکہ نے جلد بازی میں جنوبی ایران کے ساحلی علاقوں اور مشرقی صوبوں میں حملے کیے۔
پاسداران کے مطابق امریکی حملوں میں مقدس شہر مشہد جانے والے دو پلوں کو بھی نشانہ بنایا گیا تاکہ الوداعی اجتماعات کی خبروں کو عالمی توجہ سے دور رکھا جا سکے، تاہم اس اقدام سے دنیا بھر میں امریکہ کے خلاف ردعمل مزید بڑھا۔


