امریکی فوجی حکام نے کہا ہے کہ امریکی افواج نے اسلامی جمہوریہ ایران کے خلاف تازہ کارروائی میں 90 ایرانی فوجی اہداف کو نشانہ بنایا ہے۔ ان اہداف میں فضائی دفاعی نظام، میزائل اور ڈرون ذخیرہ گاہیں، ساحلی نگرانی کے مراکز، بحری تنصیبات اور دیگر فوجی اثاثے شامل تھے۔
امریکی سینٹرل کمانڈ نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر جاری بیان میں کہا کہ 8 جولائی کو ایران کے خلاف حملوں کا ایک اضافی مرحلہ مکمل کیا گیا۔ بیان کے مطابق ان کارروائیوں کا مقصد ایران کی آبنائے ہرمز میں تجارتی بحری جہازوں اور شہری بحری عملے پر حملے کرنے کی صلاحیت کو مزید کمزور کرنا تھا۔
سینٹ کام کے مطابق امریکی حملوں میں ایران کی فضائی دفاعی صلاحیت، میزائل و ڈرون ذخائر، لاجسٹک انفراسٹرکچر اور دیگر فوجی تنصیبات کو نشانہ بنایا گیا تاکہ خطے میں بین الاقوامی بحری نقل و حمل کے تحفظ کو یقینی بنایا جا سکے۔
دوسری جانب ایران نے امریکی دعوؤں پر فوری طور پر کوئی تفصیلی ردعمل جاری نہیں کیا، تاہم ایرانی حکام اس سے قبل واضح کر چکے ہیں کہ کسی بھی امریکی حملے کا بھرپور جواب دیا جائے گا۔
حالیہ کارروائیاں ایسے وقت میں سامنے آئی ہیں جب امریکہ اور ایران کے درمیان 60 روزہ جنگ بندی سے متعلق مفاہمتی یادداشت پر دستخط کے صرف چند ہفتے ہی گزرے ہیں، جس کے بعد خطے میں کشیدگی میں ایک بار پھر نمایاں اضافہ دیکھنے میں آ رہا ہے۔
دوسری جانب اسلامی انقلابی گارڈ کور (IRGC) نے دعویٰ کیا ہے کہ جوابی کارروائی میں کویت میں واقع علی السالم اور عریفجان امریکی فوجی اڈوں کے علاوہ بحرین میں الجفیر اور شیخ عیسیٰ فوجی اڈوں کو نشانہ بنایا گیا۔ ایرانی بیان کے مطابق ان حملوں میں اہم فوجی تنصیبات اور بنیادی ڈھانچے کو نقصان پہنچایا گیا۔
آئی آر جی سی نے اپنے بیان میں خبردار کیا ہے کہ اگر امریکہ نے دوبارہ کسی بھی قسم کی جارحیت کی تو ایران کے جوابی حملوں کا دائرہ خطے میں موجود دیگر امریکی فوجی اڈوں تک بھی وسیع کر دیا جائے گا۔


