ایران کے سپریم لیڈر آیتالله سید علی خامنهای نے کہا ہے کہ قیدی شہداء نے سخت ترین اذیتیں برداشت کیں لیکن دشمن کے سامنے سر نہیں جھکایا، اور ان کی یاد منانا دراصل ان کے صبر اور ثابت قدمی کو خراجِ عقیدت پیش کرنا ہے۔
ایران کی نیم سرکاری مہر خبررساں ایجنسی کے مطابق، سپریم لیڈر نے قیدی شہداء کانفرنس کے موقع پر اپنے پیغام میں کہا کہ یہ شہداء دفاعِ مقدس کے دوران ایرانی قوم کی مظلومیت کے ساتھ ساتھ ان کے ایمان، شجاعت اور استقامت کی روشن علامت ہیں۔
انہوں نے آٹھ سالہ جنگ کو ایک جانب قوم کی بہادری اور حوصلے کا امتحان قرار دیا تو دوسری جانب اسے دکھ، تنہائی اور جسمانی و ذہنی تکالیف کا دور بھی بتایا۔
ان کا کہنا تھا کہ قید سے رہائی پانے والے افراد کی یادداشتیں اس زمانے کی سختیوں کا صرف ایک حصہ بیان کرتی ہیں، جبکہ بہت سے ایسے افراد بھی تھے جو قید ہی کے دوران شہید ہو گئے۔
انھوں نے کہا کہ اب تک دو ہزار سے زائد ایسے قیدی شہداء کی شناخت ہو چکی ہے جنہوں نے کڑے حالات برداشت کیے لیکن ظالموں کے دباؤ کے سامنے جھکنے سے انکار کیا۔
اپنے پیغام میں آیتالله سید علی خامنهای نے کہا کہ یہ کانفرنس ان شہداء کی استقامت کو سلام پیش کرنے کے لیے منعقد کی گئی ہے اور اس کے منتظمین نے ایک اہم اور بامعنی موضوع کا انتخاب کیا ہے۔
انہوں نے دعا کی کہ اللہ تعالیٰ ان شہداء اور راہِ مقاومت میں خدمت انجام دینے والوں کو بہترین اجر عطا فرمائے۔


