بلوم برگ کی حالیہ رپورٹ کے مطابق دنیا بھر میں جاری جنگوں اور جغرافیائی سیاسی تنازعات نے عالمی دفاعی صنعت کو ایک بے مثال مالیاتی عروج بخشا ہے، جس کے نتیجے میں دفاعی کمپنیوں کے محض 14 بڑے شیئر ہولڈرز اور خاندانوں نے گذشتہ تین ماہ سے بھی کم عرصے میں 28 ارب ڈالر سے زائد کی نئی دولت اکٹھی کر لی ہے۔
اس غیر معمولی منافع کی بنیادی وجہ میزائل، ڈرونز، الیکٹرانک وارفیئر سسٹم اور اسلحہ سازی کے بنیادی پرزہ جات بنانے والی کمپنیوں کے حصص (Shares) میں ہونے والا ریکارڈ اضافہ ہے۔
جہاں ایک طرف 2026 کے دوران عالمی معیشت کے روایتی اشاریے جیسے ایس اینڈ پی 500 انڈیکس میں 3.2 فیصد کی کمی دیکھی گئی، وہیں دفاعی کمپنیوں کے انڈیکس میں 18 فیصد کا نمایاں اضافہ ریکارڈ کیا گیا جو اس شعبے میں ہونے والی سرمایہ کاری کے حجم کو ظاہر کرتا ہے۔
رپورٹ میں انکشاف کیا گیا ہے کہ امریکہ نے ایران کے خلاف جنگ کے صرف پہلے چھ دنوں میں 11.3 ارب ڈالر خرچ کیے، جبکہ پنٹاگون نے اس سلسلے کو برقرار رکھنے کے لیے مزید 200 ارب ڈالر کی خطیر رقم طلب کر لی ہے۔
اسی طرح اسرائیل کا دفاعی بجٹ بھی 120 فیصد اضافے کے ساتھ 46 ارب ڈالر تک جا پہنچا ہے اور یورپی ممالک نے روس یوکرین جنگ کے تناظر میں اپنے عسکری اخراجات میں 60 فیصد سے زائد کا اضافہ کر دیا ہے۔
یہ صورتحال ظاہر کرتی ہے کہ عالمی طاقتیں اب اپنی افواج کو جدید بنانے اور مہلک ہتھیاروں کے ذخیرے بڑھانے کی دوڑ میں شامل ہو چکی ہیں، جس کا براہِ راست فائدہ جنوبی کوریا، بھارت، اسرائیل، فرانس اور امریکہ کی دفاعی کمپنیوں کے سرمایہ کاروں کو پہنچ رہا ہے، جن میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے خاندان کے قریبی افراد بھی شامل بتائے جاتے ہیں۔


