عید قربان میں صرف 3 دن باقی رہ گئے ہیں، جس کے ساتھ ہی مویشی منڈیوں میں قربانی کے جانوروں کی خرید و فروخت میں نمایاں اضافہ دیکھنے میں آ رہا ہے، تاہم بڑھتی ہوئی قیمتوں نے خریداروں کو شدید پریشانی میں مبتلا کر دیا ہے۔
مختلف منڈیوں میں شہری جانوروں کی خریداری کے لیے ایک سے دوسری منڈی کا رخ کر رہے ہیں، مگر دن کے وقت شدید گرمی کے باعث زیادہ تر رش رات کے اوقات میں دیکھا جا رہا ہے۔
پنجاب کے مختلف اضلاع کے ساتھ ساتھ خیبر پختونخوا اور کشمیر سے بھی جانوروں کی آمد کا سلسلہ تیزی سے جاری ہے۔ مارکیٹ ذرائع کے مطابق بکرے کی قیمت ایک لاکھ روپے سے کم نہیں بتائی جا رہی، جبکہ گفت و شنید کے بعد چند ہزار روپے کی معمولی کمی کی جا رہی ہے۔
اسی طرح دنبہ ایک سے تین لاکھ روپے، دیسی بکرے دو لاکھ روپے تک، گائے (وہڑی) تقریباً دو لاکھ روپے اور بیل کی قیمت تین لاکھ سے لے کر دس لاکھ روپے تک پہنچ گئی ہے۔
شہریوں کا کہنا ہے کہ جانوروں کی قیمتیں گزشتہ سال کے مقابلے میں تقریباً 50 فیصد تک بڑھ چکی ہیں، جس کے باعث متوسط اور عام طبقے کے لیے قربانی کرنا مشکل ہوتا جا رہا ہے۔ اجتماعی قربانی کے لیے بھی فی کس حصہ 32 ہزار سے 40 ہزار روپے تک پہنچ گیا ہے۔
دوسری جانب بیوپاریوں اور مویشی مالکان کا مؤقف ہے کہ چارے کی قیمتوں میں اضافہ، ٹرانسپورٹ اخراجات اور دیگر لاگت بڑھنے کے باعث جانور مہنگے فروخت کرنے پر مجبور ہیں۔
شہریوں نے مویشی منڈیوں میں سکیورٹی انتظامات پر بھی تحفظات کا اظہار کیا ہے۔ ان کے مطابق رات کے وقت مشکوک افراد کی نقل و حرکت، پارکنگ کے مسائل اور پولیس گشت میں کمی کے باعث منڈیوں میں عدم تحفظ کی صورتحال پائی جاتی ہے۔


