آخرڈونلڈ ٹرمپ ایران کے معاملے میں کیوں ناکام ہوئے؟دی اٹلانٹک نے سوال اٹھا دیا

Date:

 جریدے دی ایٹلانٹک نے اپنی تازہ تجزیاتی رپورٹ میں سوال اٹھایا ہے کہ ڈونلڈ ٹرمپ ایران کے معاملے میں کیوں ناکام ہوئے؟

جریدے کے مطابق جس جنگ کو ٹرمپ چند ہفتوں میں ایران کی غیر مشروط سرنڈر پر ختم کرنا چاہتے تھے، وہی جنگ اب امریکہ کے لیے ایک سیاسی اور سفارتی بوجھ بنتی جا رہی ہے، جبکہ ایران مسلسل مزاحمت کے بعد مذاکرات کی میز پر نسبتاً مضبوط پوزیشن میں دکھائی دے رہا ہے۔

رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ جنگ کے ابتدائی دنوں میں ٹرمپ مسلسل دعویٰ کررہے تھے کہ ایران مکمل طور پر گھٹنے ٹیک دے گا اور تہران کو اپنی جوہری سرگرمیاں، میزائل پروگرام اور آبنائے ہرمز پر کنٹرول چھوڑنا پڑے گا۔

مارچ 2026 میں ٹرمپ نے یہاں تک اعلان کیا تھا کہ ایران کے ساتھ صرف غیر مشروط سرنڈر کی بنیاد پر ہی معاہدہ ہوسکتا ہے۔

تاہم ایٹلانٹک کے مطابق وقت گزرنے کے ساتھ صورتحال الٹ ہوگئی۔ ایران نہ صرف جنگی دباؤ کے باوجود برقرار رہا بلکہ اس نے آبنائے ہرمز پر اپنی گرفت بھی مکمل طور پر ختم نہیں کی۔ اسی دوران امریکہ اور اس کے اتحادیوں کو بڑھتی معاشی مشکلات، تیل کی قیمتوں میں اضافے اور خطے میں بڑھتی بےچینی کا سامنا کرنا پڑا۔

جریدے کے مطابق اب ٹرمپ انتظامیہ ایک ایسے سمجھوتے کی جانب بڑھ رہی ہے جس میں جنگ بندی میں توسیع، مذاکرات کی بحالی اور ایران کے ساتھ نرم شرائط پر بات چیت شامل ہے۔

امریکی اور ایرانی مذاکرات کاروں کے درمیان 60 روزہ جنگ بندی میں توسیع کے لیے مفاہمتی یادداشت تیار ہوچکی ہے، تاہم اس کی حتمی منظوری ابھی صدر ٹرمپ نے نہیں دی۔

ایٹلانٹک نے اپنی رپورٹ میں لکھا کہ ٹرمپ ابتدا میں طاقت کے ذریعے ایران کو مکمل شکست دینا چاہتے تھے، لیکن اب وہ باعزت راستہ نکالنےکی کوشش کررہے ہیں۔ جریدے نے اسے امریکی پالیسی کی کمزوری قرار دیتے ہوئے کہا کہ واشنگٹن جنگ کے اہداف حاصل کیے بغیر ہی مذاکرات پر مجبور ہوگیا ہے۔

دیگر بین الاقوامی تجزیہ کاروں نے بھی اس صورتحال کو ٹرمپ کے لیے سیاسی دھچکا قرار دیا ہے۔ آسٹریلوی نشریاتی ادارے اے بی سی نیوز کے مطابق ایران کے ساتھ ہونے والا مجوزہ معاہدہ تہران کے حق میں جھکا ہوا دکھائی دیتا ہے، جبکہ امریکہ اور اسرائیل اپنی ابتدائی جنگی کامیابیوں کو سیاسی نتائج میں تبدیل کرنے میں ناکام رہے۔

رپورٹ میں مزید کہا گیا کہ امریکی صدر کو اب اندرونِ ملک بھی شدید دباؤ کا سامنا ہے۔ ریپبلکن پارٹی کے سخت گیر حلقے ایران کے ساتھ کسی بھی نرم معاہدے کو پسپائی قرار دے رہے ہیں، جبکہ تیل کی قیمتوں اور طویل جنگ کے اخراجات نے امریکی عوام میں بھی بےچینی پیدا کردی ہے۔

تجزیہ نگاروں کے مطابق موجودہ صورتحال یہ ظاہر کرتی ہے کہ ایران نے مکمل عسکری برتری حاصل نہ ہونے کے باوجود سفارتی میدان میں اپنی پوزیشن مضبوط کرلی ہے، جبکہ ٹرمپ انتظامیہ کو اپنی ابتدائی دھمکیوں اور موجودہ مذاکراتی رویے کے درمیان واضح تضاد کا سامنا ہے۔

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here

Share post:

Subscribe

spot_imgspot_img

Popular

More like this
Related

ہم سب مل کر اسٹیبلشمنٹ کے ہاتھ مضبوط کریں گے،صدر مملکت آصف علی زرداری

صدر مملکت آصف علی زرداری نے کہا ہے کہ...

نیتن یاہو کا فوج کو غزہ کے 70 فیصد علاقے پر قبضہ کرنے کا حکم

اسرائیلی کے وزیر اعظم بنجمن نیتن یاہو نے مقبوضہ...