ایران نے آبنائے ہرمز میں موجود امریکی جنگی جہازوں کو نشانہ بناتے ہوئے بیلسٹک میزائل حملے کیے ہیں، جس کے بعد خطے میں کشیدگی مزید بڑھ گئی ہے۔
برطانوی خبر ایجنسی رائٹرز نے ایرانی خبر ایجنسی فارس کے حوالے سے رپورٹ کیا ہے کہ ایرانی مسلح افواج نے جنوبی ایران سے امریکی بحری جہازوں کی جانب بیلسٹک میزائل فائر کیے۔ رپورٹ کے مطابق حملے پہلے سے طے شدہ اہداف پر کیے گئے، تاہم حملوں کے نتیجے میں ہونے والے نقصانات یا جانی صورتحال کے بارے میں فوری طور پر کوئی تفصیلات جاری نہیں کی گئیں۔
ایرانی میڈیا کے مطابق ایران کی مسلح افواج نے جنوبی علاقوں سے “چند مخصوص اہداف” کی جانب میزائل داغے۔ سرکاری ذرائع نے دعویٰ کیا کہ یہ کارروائی حالیہ کشیدگی اور امریکی فوجی سرگرمیوں کے ردعمل میں انجام دی گئی۔
رپورٹس میں کہا گیا ہے کہ آبنائے ہرمز اور خلیجی پانیوں میں اس وقت غیر معمولی فوجی نقل و حرکت جاری ہے، جبکہ ایرانی بحریہ اور پاسداران انقلاب کے یونٹس کو بھی ہائی الرٹ پر رکھا گیا ہے۔
تاحال امریکی حکام کی جانب سے ان حملوں کی مکمل تصدیق یا تردید سامنے نہیں آئی، تاہم خطے میں موجود امریکی اور اتحادی بحری بیڑوں کی نگرانی مزید سخت کردی گئی ہے۔
دفاعی ماہرین کے مطابق اگر ایران اور امریکا کے درمیان براہ راست بحری محاذ آرائی میں شدت آتی ہے تو اس کے عالمی معیشت پر گہرے اثرات مرتب ہوسکتے ہیں، کیونکہ آبنائے ہرمز دنیا کی اہم ترین تیل گزرگاہوں میں شمار ہوتی ہے جہاں سے عالمی تیل تجارت کا بڑا حصہ گزرتا ہے۔
تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ حالیہ میزائل حملے اس بات کی علامت ہیں کہ جنگ بندی اور مذاکرات کی خبروں کے باوجود خطے میں عسکری تناؤ بدستور برقرار ہے، اور کسی بھی غلط اندازے سے صورتحال مزید خطرناک رخ اختیار کرسکتی ہے۔


