ایران، افغانستان اور چین کو ریلوے کے ذریعے منسلک کرنے کے لیے اہم علاقائی منصوبے پر عملی کام شروع کر دیا گیا ہے۔ منصوبے کے تحت 657 کلومیٹر طویل ہرات–مزارِ شریف ریلوے لائن ایرانی کمپنیوں کی جانب سے تعمیر کی جائے گی، جبکہ اس کی مالی معاونت افغانستان کے معدنی وسائل سے کی جائے گی۔
رپورٹس کے مطابق یہ ریلوے کوریڈور مکمل ہونے کے بعد ایران کو افغانستان کے راستے چین تک براہِ راست ریلوے رسائی حاصل ہو جائے گی، جس کے نتیجے میں مختلف ممالک میں ریلوے ٹریک کی چوڑائی (ریل گیج) تبدیل کرنے کی ضرورت بھی ختم ہو جائے گی۔ اس سے مال برداری کا وقت اور لاگت دونوں میں نمایاں کمی آنے کی توقع ہے۔

منصوبہ خطے میں تجارت، ٹرانزٹ اور اقتصادی تعاون کے فروغ کے لیے ایک اہم پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے۔ ماہرین کے مطابق یہ ریلوے راہداری ایران، افغانستان اور چین کے درمیان تجارتی روابط کو مزید مستحکم کرنے کے ساتھ ساتھ وسطی ایشیا اور مشرقِ وسطیٰ کے درمیان نقل و حمل کے نئے مواقع بھی پیدا کرے گی۔
ذرائع کے مطابق منصوبے کی تعمیر ایرانی انجینئرنگ کمپنیوں کے سپرد کی گئی ہے، جبکہ افغانستان اپنے معدنی وسائل سے حاصل ہونے والی آمدنی کے ذریعے اس منصوبے کی مالی معاونت کرے گا۔
تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ ریلوے کوریڈور کی تکمیل سے علاقائی تجارت، سرمایہ کاری، معدنی وسائل کی ترسیل اور بین الاقوامی لاجسٹکس کے شعبوں میں مثبت اثرات مرتب ہونے کی توقع ہے، جبکہ یہ منصوبہ خطے میں معاشی روابط کو مزید مضبوط بنانے میں اہم کردار ادا کر سکتا ہے۔


