واشنگٹن:امریکی صحافی باراک راویڈ کے مطابق امریکہ نے ایران کو 24 گھنٹوں کی مہلت دیتے ہوئے مطالبہ کیا ہے کہ وہ سرکاری سطح پر یہ اعلان کرے کہ وہ آبنائے ہرمز میں تجارتی بحری جہازوں پر حملے بند کرے گا اور اس اہم عالمی بحری گزرگاہ کو کھلا رکھنے کے اپنے عزم کا اظہار کرے۔
باراک راویڈ کے مطابق ایران سے کہا گیا ہے کہ وہ عوامی طور پر یقین دہانی کرائے کہ آئندہ بین الاقوامی تجارتی جہازوں کو نشانہ نہیں بنایا جائے گا اور آبنائے ہرمز میں جہاز رانی کی آزادی کو یقینی بنایا جائے گا۔
امریکی انتظامیہ نے خبردار کیا ہے کہ اگر ایران مقررہ مدت میں اس مطالبے پر عمل نہیں کرتا تو اسے "سنگین نتائج” کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔
راویڈ کے مطابق حکام کا کہنا ہے کہ سفارتی کوششیں بدستور جاری ہیں، تاہم اگر مذاکرات ناکام ہوئے تو متبادل اور ہنگامی منصوبے پہلے ہی تیار کیے جا چکے ہیں۔
رپورٹس کے مطابق یہ سخت مؤقف ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب امریکہ ایران پر الزام عائد کر رہا ہے کہ اس نے حالیہ دنوں میں آبنائے ہرمز سے گزرنے والے تجارتی جہازوں پر حملے کیے، جس سے عالمی بحری تجارت اور توانائی کی سپلائی کو شدید خطرات لاحق ہوئے۔
امریکی میڈیا رپورٹس کے مطابق ایران کے وزیر خارجہ عباس عراقچی متوقع طور پر عمان میں اعلیٰ سطحی سفارتی ملاقاتیں کریں گے، جہاں آبنائے ہرمز کی سکیورٹی اور جاری بحران پر بات چیت ہوگی۔ واشنگٹن کو توقع ہے کہ ان مذاکرات کے بعد تہران اپنی آئندہ حکمت عملی سے متعلق باضابطہ مؤقف سامنے لا سکتا ہے۔
آبنائے ہرمز دنیا کی اہم ترین بحری گزرگاہوں میں شمار ہوتی ہے، جہاں سے عالمی منڈی میں تیل اور قدرتی گیس کی بڑی مقدار گزرتی ہے۔ اس لیے یہاں کسی بھی قسم کی کشیدگی عالمی توانائی کی منڈی، تیل کی قیمتوں اور بین الاقوامی تجارت پر براہِ راست اثر انداز ہو سکتی ہے


