ایرانی حکومت کی جانب سے صدر کے ہیلی کاپٹر حادثہ کی ابتدائی تحقیقی رپورٹ جاری کردی گئی ہے جس میں کہا گیا ہے کہ اب تک تخریبی کاروائی کے کوئی شواہد نہیں ملے۔رپورٹ کے مطابق شہید صدر رئیسی کےہیلی کاپٹرکوپیش آنےوالےحادثےکی تحقیقات کے لئے تشکیل دی گئی کمیٹی نے جمعرات کو ابتدائی رپورٹ جاری کردی۔ جس میں کہا گیا ہے کہ سانحے کے ممکنہ اسباب کے بارے میں کافی معلومات جمع کی گئی ہیں جن میں فنی اور ٹیکنیکل خرابی کے علاوہ دیگر امور شامل ہیں۔رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ بعض امور کے بارے میں یقینی طور پر کچھ کہنے کے لئے زیادہ وقت درکار ہے جبکہ ابتدائی تحقیقات کے بعد حقائق سامنے آئے ہیں ان کے مطابق،ہیلی کاپٹر پہلے سے طے شدہ راستے پر سفر کررہا تھا اور اپنے راستے سے نہیں ہٹاتھا۔حادثے سے تقریبا ایک منٹ تیس سیکنڈ پہلے حادثے کا شکار ہونے والے ہیلی کاپٹر کے پائلٹ نے باقی دونوں ہیلی کاپٹروں کے پائلٹوں سے رابطہ کیا تھا۔ ہیلی کاپٹر کی باقیات سے گولہ لگنے یا تخریبی کاروائی کے کوئی شواہد نہیں ملے۔ہیلی کاپٹر کو حادثہ پیش آنے کے بعد آگ لگ گئی تھی۔علاقہ دشوار گزار ہونے اور دھند کی وجہ سے تلاشی کا عمل رات تک طول پکڑ گیا اور پوری رات جاری رہا۔ پیر کی صبح پانچ بجے ایرانی ڈرون طیاروں نے حادثہ کی جگہ ڈھونڈ لی اور امدادی کارکن جائے حادثہ پر پہنچ گئے۔ کنٹرول ٹاور اور ہیلی کاپٹر کے عملے کے درمیان ہونے والی گفتگو اور مکالموں سے کوئی مشکوک مواد نہیں ملا۔مسلح افواج کی زیرنگرانی تشکیل پانےوالی تحقیقاتی کمیٹی کی ابتدائی رپورٹ میں واضح کیا گیا ہے کہ سانحے کے بارے میں بیشتر معلومات جمع کی گئی ہیں جن میں سے بعض کی تحقیقات میں وقت لگے گا۔ ماہرین کی جانب سے تحقیقات مکمل ہونے کے بعد نتائج سے قوم کو آگاہ کیا جائے گا
ایرانی صدر کے ہیلی کاپٹر کو حادثہ، تخریب کاری کا نتیجہ نہیں، تحقیقای رپورٹ جاری
Date: