ایران کی وزارتِ خارجہ نے ایران کے اندرونی معاملات سے متعلق جی سیون ممالک کے مداخلت پسندانہ بیان کی سخت الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے اسے انسانی حقوق کے معاملے پر اس گروپ کے رکن ممالک، بالخصوص امریکا کی قیادت میں، دوہرے اور دھوکہ دہی پر مبنی طرزِ عمل کا واضح ثبوت قرار دیا ہے۔
ایرانی وزارتِ خارجہ کے مطابق جی سیون ممالک امریکا اور صہیونی رژیم کے زیرِ اثر جان بوجھ کر اس واضح حقیقت کو نظرانداز کر رہے ہیں کہ ایرانی عوام کے پُرامن اجتماعات کو 8 سے 10 جنوری 2026 کے دوران اسرائیلی رژیم کی جانب سے مسلح اور منظم کیے گئے دہشت گرد عناصر کی کارروائیوں کے نتیجے میں پرتشدد بنا دیا گیا، جن کے دوران بڑی تعداد میں مظاہرین کے ساتھ ساتھ قانون نافذ کرنے والے اور سکیورٹی اہلکاروں پر حملے کیے گئے، وہ زخمی ہوئے یا اپنی جانوں سے ہاتھ دھو بیٹھے۔
بیان میں کہا گیا ہے کہ موجودہ اور سابق امریکی حکام اور اسرائیلی رژیم کے عہدیداروں کی جانب سے تشدد اور دہشت گردی کو ہوا دینے والے واضح بیانات، نیز سکیورٹی اداروں کی جانب سے جمع کیے گئے
ٹھوس شواہد اور دستاویزات، مسلح دہشت گردوں کو منظم اور اسلحہ فراہم کرنے میں اسرائیلی رژیم کے براہِ راست کردار اور امریکا کی جانب سے اس کی حمایت کی نشاندہی کرتے ہیں۔


