ایران کی وزارتِ دفاع نے دعویٰ کیا ہے کہ ملک کی میزائل صلاحیت کا ایک بڑا حصہ تاحال استعمال نہیں کیا گیا، جبکہ ایران ایک ہزار سے زائد اقسام کے ہتھیار مقامی سطح پر تیار کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔
ایرانی وزارتِ دفاع کے ترجمان بریگیڈیئر جنرل رضا طلائی نے اپنے بیان میں کہا کہ حالیہ کشیدگی اور عسکری کارروائیوں کے باوجود ایران کی دفاعی اور جوابی صلاحیت مکمل طور پر برقرار ہے اور ملک کے پاس اب بھی بڑی مقدار میں جدید میزائل موجود ہیں جو استعمال نہیں کیے گئے۔
انہوں نے کہا کہ ایران گزشتہ 25 برسوں سے اپنی دفاعی صنعت میں مسلسل سرمایہ کاری کر رہا ہے، جس کے نتیجے میں آج ملک میں ایک ہزار سے زائد اقسام کے ہتھیار، میزائل، ڈرونز اور دیگر دفاعی نظام مکمل طور پر مقامی سطح پر تیار کیے جا رہے ہیں۔
ترجمان کے مطابق ایران کی دفاعی پیداوار مختلف شہروں اور علاقوں میں پھیلی ہوئی ہے، تاکہ اگر کسی ایک مقام کو نقصان بھی پہنچے تو ہتھیاروں کی تیاری کا عمل متاثر نہ ہو۔ انہوں نے بتایا کہ تقریباً 9 ہزار کمپنیاں ایرانی دفاعی صنعت کو سپورٹ فراہم کر رہی ہیں۔
بیان میں مزید کہا گیا کہ حالیہ جنگی صورتحال کے دوران ایرانی افواج نے اپنی حکمت عملی کے تحت محدود صلاحیت استعمال کی، جبکہ ملک کی بڑی دفاعی طاقت اب بھی محفوظ ہے۔
یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب ایران اور امریکا کے درمیان کشیدگی کے بعد خطے میں صورتحال بدستور حساس ہے، جبکہ عالمی سطح پر ایران کے میزائل پروگرام پر بحث ایک بار پھر شدت اختیار کر گئی ہے۔


