برطانوی نشریاتی ادارے بی بی سی کے مطابق امریکا کے وزیرِ خزانہ سکاٹ بیسنٹ کا کہنا ہے کہ واشنگٹن ایرانی حکومت کے بیرونِ ملک موجود پنشن فنڈز کے اکاؤنٹس منجمد کرنے پر غور کر رہا ہے۔
سکاٹ بیسنٹ نے فاکس نیوز کو دیے گئے ایک انٹرویو میں کہا کہ ناکہ بندی کے علاوہ امریکہ ایران پر مزید سخت معاشی دباؤ برقرار رکھے گا۔امریکی وزیرِ خزانہ کا مزید کہنا ہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ان سے ایران پر دباؤ بڑھانے کو کہا ہے
بیسنٹ کے مطابق اسی وجہ سے امریکا نے ایرانی تیل کے خریداروں کو آگاہ کیا ہے کہ وہ ان صنعتوں اور بینکوں پر ثانوی پابندیاں عائد کرنے کا ارادہ رکھتا ہے جو ایرانی تیل کی خرید و فروخت میں ملوث ہیں۔
امریکہ کی جانب سے ایرانی حکومت کے بیرونِ ملک موجود فنڈز اور اکاؤنٹس، خصوصاً منجمد اثاثوں، کے حوالے سے بھی حالیہ دنوں میں متضاد خبریں سامنے آئی ہیں۔
بعض رپورٹس میں کہا گیا ہے کہ واشنگٹن ایران کے مالی وسائل پر مزید پابندیوں یا اکاؤنٹس منجمد کرنے پر غور کر رہا ہے، جبکہ دوسری اطلاعات کے مطابق امریکہ اور ایران کے درمیان مذاکرات میں کچھ منجمد اثاثے کھولنے پر بھی بات ہو رہی ہے۔
رائٹرز سمیت متعدد بین الاقوامی ذرائع کے مطابق ایران نے دعویٰ کیا ہے کہ امریکہ نے قطر اور دیگر غیر ملکی بینکوں میں موجود ایرانی فنڈز جاری کرنے پر آمادگی ظاہر کی ہے، جسے تہران نے مذاکرات میں پیش رفت کی علامت قرار دیا۔ تاہم وائٹ ہاؤس کے ایک سینئر اہلکار نے اس دعوے کی تردید کرتے ہوئے کہا کہ ایسی کسی حتمی منظوری پر اتفاق نہیں ہوا۔
یہ فنڈز بنیادی طور پر ایرانی تیل کی فروخت سے حاصل ہونے والی رقوم ہیں، جو امریکی پابندیوں کے باعث کئی برسوں سے بیرونِ ملک بینکوں میں منجمد ہیں۔
اندازوں کے مطابق ایران کے مجموعی منجمد اثاثوں کی مالیت 100 ارب ڈالر سے زائد ہو سکتی ہے، جبکہ قطر میں تقریباً 6 ارب ڈالر کے فنڈز خاص طور پر زیرِ بحث ہیں۔
اسی دوران امریکی حکام ایران سے متعلق مالی دباؤ برقرار رکھنے کے لیے نئی پابندیوں پر بھی غور کر رہے ہیں۔ امریکی محکمہ خزانہ نے حال ہی میں ایران سے منسلک کرپٹو اکاؤنٹس اور نیٹ ورکس پر کارروائی کرتے ہوئے کروڑوں ڈالر کے اثاثے منجمد کیے۔
تجزیہ کاروں کے مطابق اگر امریکہ ایرانی حکومت یا اس سے وابستہ پنشن فنڈز کے بیرونِ ملک اکاؤنٹس منجمد کرتا ہے تو اس سے ایران کی معیشت، سرکاری ملازمین کی پنشن ادائیگیوں اور بیرونی مالی لین دین پر دباؤ بڑھ سکتا ہے۔
دوسری جانب، ایران اسے اقتصادی دباؤ اورغیر قانونی مالی پابندی قرار دے سکتا ہے، جس سے دونوں ممالک کے درمیان جاری سفارتی کشیدگی مزید شدت اختیار کر سکتی ہے۔


