اسٹیٹ بینک آف پاکستان کی جانب سے جاری کردہ ہفتہ وار رپورٹ کے مطابق ملکی مجموعی زرمبادلہ ذخائر گزشتہ ہفتے کے اختتام پر 21 ارب ڈالر کی سطح عبور کر گئے۔
ذخائر میں یہ نمایاں اضافہ بنیادی طور پر پاکستان کی جانب سے جاری کردہ یوروبانڈز کے ذریعے حاصل ہونے والی رقوم کی آمد سے ممکن ہوا۔
رپورٹ کے مطابق 24 اپریل 2026 کو ختم ہونے والے ہفتے کے دوران مجموعی زرمبادلہ ذخائر 641 ملین ڈالر اضافے کے بعد 21.269 ارب ڈالر تک پہنچ گئے، جبکہ ایک ہفتہ قبل یہ ذخائر 20.628 ارب ڈالر کی سطح پر تھے۔
اس دوران اسٹیٹ بینک آف پاکستان کے پاس موجود ذخائر میں 730 ملین ڈالر کا نمایاں اضافہ ریکارڈ کیا گیا، جس کے بعد مرکزی بینک کے ذخائر بڑھ کر 15.828 ارب ڈالر ہو گئے۔ اس سے قبل یہ ذخائر 15.098 ارب ڈالر تھے۔
دوسری جانب کمرشل بینکوں کے خالص غیر ملکی ذخائر میں 90 ملین ڈالر کی معمولی کمی دیکھی گئی، جس کے بعد یہ 5.441 ارب ڈالر رہ گئے۔
اسٹیٹ بینک کے مطابق ذخائر میں اضافے کی بنیادی وجہ پاکستان کی جانب سے جاری کردہ یوروبانڈز کی رقم موصول ہونا ہے، جس سے بیرونی ادائیگیوں کے دباؤ کو کم کرنے میں مدد ملی۔
پاکستان نے تقریباً چار سال بعد بین الاقوامی کیپٹل مارکیٹس میں واپسی کرتے ہوئے تین سالہ یوروبانڈ جاری کیا۔ ابتدائی طور پر اس بانڈ کا حجم 500 ملین ڈالر رکھا گیا تھا، تاہم عالمی سرمایہ کاروں کی بھرپور دلچسپی کے باعث حکومت نے اس کا حجم بڑھا دیا۔
بعد ازاں بانڈ اجرا کا مجموعی حجم 750 ملین ڈالر تک بڑھایا گیا جبکہ گرین شو آپشن کے تحت مزید 250 ملین ڈالر حاصل کیے گئے، جس کے بعد مجموعی رقم ایک ارب ڈالر تک پہنچ گئی۔
معاشی ماہرین کے مطابق یوروبانڈز میں غیر ملکی سرمایہ کاروں کی دلچسپی پاکستان کے معاشی استحکام اور عالمی مالیاتی منڈیوں میں بحال ہوتے اعتماد کی علامت سمجھی جا رہی ہے۔
اسی عرصے کے دوران پاکستان نے متحدہ عرب امارات کو 3.4 ارب ڈالر کے بیرونی قرضوں کی ادائیگی بھی کی، تاہم سعودی عربیہ کی جانب سے 3 ارب ڈالر کی مالی معاونت سمیت دیگر بیرونی تعاون نے ان ادائیگیوں کے اثرات کو کسی حد تک متوازن رکھا۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ حالیہ مالیاتی آمد سے ملک کے بیرونی کھاتوں کو وقتی استحکام ضرور ملا ہے، تاہم پائیدار معاشی بہتری کے لیے برآمدات میں اضافہ، سرمایہ کاری کے تسلسل اور مالیاتی اصلاحات ناگزیر ہوں گی۔


