مشرقِ وسطیٰ میں جاری کشیدگی اور جنگی حالات کے باوجود دنیا بھر سے لاکھوں فرزندانِ اسلام کی مکہ مکرمہ آمد کا سلسلہ جاری ہے، اور سعودی عرب نے اعلان کیا ہے کہ رواں سال حج کی ادائیگی کے لیے بیرونِ ملک سے آنے والے عازمینِ حج کی تعداد گزشتہ سال کے تمام ریکارڈ توڑ چکی ہے۔
سعودی حکام کے مطابق اب تک 15 لاکھ 18 ہزار 153 سے زائد بین الاقوامی حاجی مملکت پہنچ چکے ہیں۔ حج کور کے کمانڈر بریگیڈیئر جنرل صالح المربع نے ٹی وی بیان میں بتایا کہ ان میں سے 14 لاکھ 57 ہزار 514 حاجی فضائی راستے سے سعودی عرب پہنچے، جبکہ 45 ہزار 141 عازمین زمینی راستوں سے داخل ہوئے اور 6497 حاجی سمندری بندرگاہوں کے ذریعے مملکت پہنچے۔
انہوں نے کہا کہ بیرونِ ملک سے آنے والے حاجیوں کی آمد اپنے اختتامی مرحلے میں داخل ہو چکی ہے، جبکہ اس سال حج کے دوران گزشتہ برس کی نسبت زیادہ رش متوقع ہے۔
سعودی حکام کا کہنا ہے کہ حج کے پُرامن انعقاد کے لیے سیکیورٹی، صحت اور انتظامی سطح پر غیرمعمولی اقدامات کیے گئے ہیں۔ مختلف اداروں کے تعاون سے جامع سیکیورٹی پلان نافذ کیا گیا ہے تاکہ لاکھوں حاجیوں کو محفوظ اور آسان ماحول فراہم کیا جا سکے۔
بریگیڈیئر جنرل صالح المربع نے واضح کیا کہ حج قوانین کی خلاف ورزی کرنے والوں کے خلاف سخت کارروائی جاری ہے، خصوصاً ایسے افراد کے خلاف جو بغیر سرکاری اجازت نامے کے حاجیوں کو مکہ مکرمہ منتقل کرتے ہیں۔
انہوں نے بتایا کہ مکہ مکرمہ کے داخلی راستوں تنعیم، بہیتہ، شمیشی اور کڑہ مراکز پر خصوصی انتظامی کمیٹیاں تعینات کی گئی ہیں تاکہ حج ضوابط پر مکمل عمل درآمد یقینی بنایا جا سکے۔
سعودی حکام کے مطابق خلاف ورزی کرنے والوں پر فی حاجی 50 ہزار سعودی ریال تک جرمانہ اور چھ ماہ قید کی سزا دی جا سکتی ہے، جبکہ غیر ملکی باشندوں کو سزا کے بعد ملک بدر بھی کیا جائے گا اور ایک مخصوص مدت تک دوبارہ سعودی عرب میں داخلے پر پابندی عائد کی جا سکتی ہے۔
واضح رہے کہ سعودی عرب ہر سال حج کے عظیم اجتماع کے لیے دنیا بھر سے آنے والے لاکھوں مسلمانوں کے استقبال کے لیے وسیع انتظامات کرتا ہے، تاہم رواں برس خطے میں جاری کشیدگی کے باوجود حاجیوں کی ریکارڈ آمد نے ایک نئی مثال قائم کر دی ہے۔


