ایران نے امریکا کو دو مرحلوں پر مشتمل ایک نئی تجویز پیش کر دی ہے، جسے خطے میں جاری کشیدگی اور جوہری تنازع کے تناظر میں انتہائی اہم پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے۔
ذرائع کے مطابق اس تجویز کی خاص بات آبنائے ہرمز میں ٹول سسٹم کی معطلی اور خطے میں کشیدگی کم کرنے کے اقدامات ہیں۔
پہلے مرحلے میں ایران نے امریکا سے جنگ کے خاتمے، امریکی بحری ناکہ بندی کے باضابطہ اختتام، ایرانی فنڈز کی رہائی اور جنگی نقصانات کے ازالے کے لیے ہرجانے کی ادائیگی کا مطالبہ کیا ہے۔
اس کے ساتھ ایران نے آبنائے ہرمز کو دوبارہ مکمل طور پر کھولنے اور وہاں عائد ٹول سسٹم کو معطل کرنے کی پیشکش بھی کی ہے، جسے عالمی تجارتی راستوں کے لیے ایک اہم اشارہ سمجھا جا رہا ہے۔
دوسرے مرحلے میں ایرانی قیادت نے عندیہ دیا ہے کہ ایران 10 برس تک 3.6 فیصد سے زیادہ یورینیم افزودگی معطل کر دے گا، جبکہ زیادہ افزودہ یورینیم کو کم سطح پر لایا جائے گا۔
تجویز میں یہ یقین دہانی بھی کرائی گئی ہے کہ ایران جوہری ہتھیار تیار نہیں کرے گا۔
دوسری جانب ایران نے مطالبہ کیا ہے کہ امریکا تمام اقتصادی پابندیاں مکمل طور پر ختم کرے اور ایران کے یورینیم افزودگی کے حق کو باضابطہ طور پر تسلیم کرے۔
تجزیہ کاروں کے مطابق اگر یہ تجویز عملی مذاکرات کی شکل اختیار کرتی ہے تو یہ نہ صرف ایران اور امریکا کے تعلقات میں بڑی پیش رفت ثابت ہو سکتی ہے بلکہ مشرقِ وسطیٰ میں توانائی اور عالمی تجارت کے لیے بھی اہم اثرات مرتب کر سکتی ہے۔


