ایران اور امریکہ کے درمیان مبینہ مفاہمتی مسودے سے متعلق سامنے آنے والی خبروں کو ایرانی ذرائع نے مسترد کر دیا ہے۔
ایران کی نیم سرکاری مہر نیوز ایجنسی کے مطابق صہیونی حکومت کے قریب سمجھے جانے والے بعض میڈیا اداروں کی جانب سے شائع کردہ نکات دراصل امریکی مؤقف اور یکطرفہ بیانیے کی عکاسی کرتے ہیں، جن کی ایرانی فریق نے کوئی تائید نہیں کی۔
ذرائع کے مطابق ایران سے منسوب کیے جانے والے یہ دعوے حقیقت پر مبنی نہیں اور انہیں سیاسی و میڈیا مقاصد کے لیے پیش کیا جا رہا ہے۔
واضح رہے کہ امریکی ویب سائٹ ایکسیوس نے ایک رپورٹ میں دعویٰ کیا تھا کہ ایران اور امریکہ کے درمیان مجوزہ معاہدے میں 60 روزہ جنگ بندی میں توسیع، آبنائے ہرمز کو بغیر ٹول ٹیکس کے کھولنے اور ایران کی جانب سے آبنائے ہرمز میں نصب بحری بارودی سرنگوں کو ہٹانے جیسے نکات شامل ہیں۔
تاہم ایرانی ذرائع نے ان تمام تفصیلات کو غیر مصدقہ قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ ان رپورٹس کو ایران کے سرکاری مؤقف کے طور پر پیش کرنا درست نہیں۔


