سینئر صحافی کامران خان نےسوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر جاری اپنے بیان میں امریکا ایران مذاکرات میں بڑی پیش رفت پر مبارکباد پیش کرتے ہوئے کہا ہے کہ ہفتوں کی جنگ، تباہی اور دھمکیوں کے بعد اب بظاہر فیصلہ ہوچکا ہے
آج امریکہ اور ایران ایک بڑے امن معاہدے کے دہانے پر کھڑے ہیں، اور اس بار بات صرف جنگ بندی کی نہیں بلکہ ایک وسیع سیاسی سمجھوتے کی ہے۔

فیلڈ مارشل عاصم منیر کی قیادت میں پاکستانی حکام اور قطری حکام کی مسلسل سفارتی کوششوں کے بعد صدر ٹرمپ نے گزشتہ چند گھنٹوں میں اعلان کیا کہ ایران کے ساتھ امن معاہدہ بڑی حد تک طے پا چکا ہے
ایرانی وزارتِ خارجہ کے ترجمان نے بھی واضح اشارہ دیا ہے کہ فریم ورک تقریباً مکمل ہوچکا ہے۔اب تک سامنے آنے والی اطلاعات کےمطابق متوقع معاہدے میں فوری جنگ بندی، آبنائے ہرمز کی مکمل بحالی، ایران پر بعض اقتصادی پابندیوں میں مرحلہ وار نرمی، منجمد ایرانی اثاثوں پر پیش رفت، اسرائیل اور ایران کے درمیان براہِ راست کشیدگی میں کمی، جبکہ ایران کے جوہری پروگرام پر اگلے 30 تا 60 روز میں باضابطہ مذاکرات شامل ہیں
سعودی عرب، قطر، یو اے ای، ترکیہ اورمصر نے بھی پسِ پردہ سفارتی کردار ادا کیا ہے تاکہ خطہ ایک بڑی تباہ کن جنگ سے بچ سکے۔ اب اصل سوال صرف یہ رہ گیا ہے: باضابطہ اعلان کب ہوتا ہے؟


